حدیث نمبر: 6816
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَحُلَّ صِرَارَ نَاقَةٍ بِغَيْرِ إِذْنِ أَهْلِهَا ، فَإِنَّهُ خَاتَمُهُمْ عَلَيْهَا ، فَإِذَا كُنْتُمْ بِقَفْرٍ فَرَأَيْتُمُ الْوَطْبَ أَوِ الرَّاوِيَةَ أَوِ السِّقَاءَ مِنَ اللَّبَنِ ، فَنَادُوا أَصْحَابَ الْإِبِلِ ثَلَاثًا ، فَإِنْ سَقَوْكُمْ فَاشْرَبُوا وَإِلَّا فَلَا ، فَإِنْ كُنْتُمْ مُرْمِلِينَ - قَالَ أَبُو النَّضْرِ : وَلَمْ يَكُنْ مَعَكُمْ طَعَامٌ - فَلْيُمْسِكْهُ رَجُلَانِ مِنْكُمْ ، ثُمَّ اشْرَبُوا " . ¤ قُلْتُ : رَوَى ابْنُ مَاجَهْ بَعْضَهُ بِغَيْرِ سِيَاقِهِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والے کسی بھی شخص کے لئے یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ کسی اونٹنی کے مالک کی اجازت کے بغیر اس کے تھن کو کھولے ، کیونکہ اس پر ان لوگوں کی مہر لگی ہوئی ہے ، اور جب تم کسی ویرانے میں ہو اور پھر تم دودھ کا کوئی مشکیزہ دیکھو ( یہاں لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ، لیکن مفہوم یہی ہے ) تو اونٹوں والے افراد کو تین مرتبہ پکارو ، اگر وہ تمہیں پلا دیتے ہیں ، تو تم پی لو ! ورنہ نہیں ، اور اگر تم مرمل ہو ۔ ابونضر کہتے ہیں : یعنی تمہارے پاس کھانا نہ ہو ۔ تو تم میں سے دو آدمی اسے پکڑ لیں اور پھر تم پی لو “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس روایت کا کچھ حصہ اس سیاق کے بغیر نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6816
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح