حدیث نمبر: 6815
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ عَبْدًا أَسْوَدَ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَمُرُّ بِي ابْنُ السَّبِيلِ ، وَأَنَا فِي مَاشِيَةٍ لِسَيِّدِي أَفَأَسْقِي مِنْ أَلْبَانِهَا بِغَيْرِ إِذْنِهِ ؟ قَالَ : " لَا " قَالَ : فَإِنِّي أَرْمِي فَأُصْمِي ، وَأُنْمِي . قَالَ : " كُلْ مَا أَصْمَيْتَ، وَدَعْ مَا أَنْمَيْتَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبَّادُ بْنُ زِيَادٍ - بِفَتْحِ الْعَيْنِ - وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ مُوسَى بْنُ هَارُونَ وَغَيْرُهُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک سیاہ فام غلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور بولا: ایک مسافر میرے پاس سے گزرا ، اس وقت میں اپنے آقا کے جانوروں کے درمیان موجود تھا ، کیا میں اسے آقا کی اجازت کے بغیر ان جانوروں کا دودھ پینے کے لئے دے سکتا ہوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی نہیں ! اس نے عرض کی : اگر میں تیر مارتا ہوں تو شکار میری نگاہ سے اوجھل ہو جاتا ہے ، یا اوجھل نہیں ہوتا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو اوجھل نہیں ہوتا اسے تم کھا لو اور جو اوجھل ہو جاتا ہے ، اسے چھوڑ دو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عباد ہے ، جس میں ’ ع ، پر زبر ہے ، ابوحاتم اور دیگر حضرات نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، جبکہ موسیٰ بن ہارون اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6815
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف