مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي مَالِ الْوَلَدِ . باب: اولاد کے مال کا حکم
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبِي أَخَذَ مَالِي فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اذْهَبْ فَأْتِنِي بِأَبِيكَ " . فَنَزَلَ جِبْرِيلُ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُقْرِئُكَ السَّلَامَ وَيَقُولُ لَكَ : إِذَا جَاءَكَ الشَّيْخُ فَسَلْهُ عَنْ شَيْءٍ قَالَهُ فِي نَفْسِهِ ، مَا سَمِعَتْهُ أُذُنَاهُ " . فَلَمَّا جَاءَ الشَّيْخُ قَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا بَالُ ابْنِكَ يَشْكُوكَ أَتُرِيدُ أَنْ تَأْخُذَ مَالَهُ ؟ " . فَقَالَ : سَلْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلْ أَنْفَقْتُهُ إِلَّا عَلَى إِحْدَى عَمَّاتِهِ أَوْ خَالَاتِهِ أَوْ عَلَى نَفْسِي ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِيهْ دَعْنَا مِنْ هَذَا ، أَخْبِرْنِي عَنْ شَيْءٍ قُلْتَهُ فِي نَفْسِكَ مَا سَمِعَتْهُ أُذُنَاكَ " . فَقَالَ الشَّيْخُ : وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا يَزَالُ اللَّهُ يَزِيدُنَا بِكَ يَقِينًا ، لَقَدْ قُلْتُ شَيْئًا فِي نَفْسِي مَا سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ، فَقَالَ : " قُلْ ، وَأَنَا أَسْمَعُ " . قَالَ : قُلْتُ : ¤ غَذَوْتُكَ مَوْلُودًا وَمُنْتُكَ يَافِعًا تُعِلُّ بِمَا أَجْنِي عَلَيْكَ وَتَنْهَلُ . ¤ إِذَا لَيْلَةٌ ضَاَفَتْكَ بِالسَّقْمِ لَمْ أَبِتْ ¤ لِسَقْمِكَ إِلَّا سَاهِرًا أَتَمَلْمَلُ . ¤ كَأَنِّي أَنَا الْمَطْرُوقُ دُونَكَ بِالَّذِي ¤ طُرِقْتَ بِهِ دُونِي فَعَيْنِي تَهْمِلُ . ¤ تَخَافُ الرَّدَى نَفْسِي عَلَيْكَ وَإِنَّهَا ¤ لَتَعْلَمُ أَنَّ الْمَوْتَ وَقْتٌ مُؤَجَّلُ . ¤ فَلَمَّا بَلَغْتَ السِّنَّ وَالْغَايَةَ الَّتِي ¤ إِلَيْهَا مَدَى مَا كُنْتُ فِيكَ أُؤَمِّلُ . ¤ جَعَلْتَ جَزَائِي غِلْظَةً وَفَظَاظَةً ¤ كَأَنَّكَ أَنْتَ الْمُنْعِمُ الْمُتَفَضِّلُ . ¤ فَلَيْتَكَ إِذْ لَمْ تَرْعَ حَقَّ أُبُوَّتِي ¤ فَعَلْتَ كَمَا الْجَارُ الْمُجَاوِرُ يَفْعَلُ . ¤ تَرَاهُ مُعِدٍّا لِلْخِلَافِ كَأَنَّهُ ¤ بَرَدٍّ عَلَى أَهْلِ الصَّوَابِ مُوَكَّلُ . ¤ قَالَ : حِينَئِذٍ أَخَذَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِتَلَابِيبِ ابْنِهِ فَقَالَ : " أَنْتَ وَمَالُكَ لِأَبِيكَ " . ¤ قُلْتُ : رَوَى ابْنُ مَاجَهْ طَرَفًا مِنْهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . وَالْمُنْكَدِرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ أَحْمَدُ، وَالْحَدِيثُ بِهَذَا التَّمَامِ مُنْكَرٌ ، وَقَدْ تَقَدَّمَتْ لَهُ طَرِيقٌ مُخْتَصَرَةٌ رِجَالُ إِسْنَادِهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے والد نے میرا مال لے لیا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم جاؤ اور اپنے والد کو میرے پاس لے کے آؤ ، سیدنا جبرائیل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، اور بولے : اللہ تعالیٰ نے آپ کو سلام کہا: ہے اور اس نے آپ سے یہ فرمایا ہے کہ جب وہ بوڑھا شخص آپ کے پاس آئے ، تو آپ اس سے اس چیز کے بارے میں دریافت کریں ، جو اس نے دل میں سوچی ہے ، اس کے کانوں نے اسے نہیں سنا ، جب وہ بوڑھا شخص آیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : تمہارے بیٹے کا کیا معاملہ ہے کہ وہ تمہاری شکایت کر رہا ہے ؟ کیا تم یہ چاہتے ہو کہ تم اس کا مال حاصل کر لو ؟ اس شخص نے کہا: یا رسول اللہ ! آپ اس سے پوچھ لیں ، میں وہ مال ، یا تو اس کی کسی پھوپھی پر ، یا اس کی خالہ پر ، یا اپنے اوپر خرچ کرتا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : چلو اس بات کو رہنے دو ، تم مجھے اس چیز کے بارے میں بتاؤ ، جو تم نے صرف دل میں سوچی ہے اور تمہارے کانوں نے بھی اسے نہیں سنا ، تو اس بوڑھے نے کہا: اللہ کی قسم یا رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ مسلسل آپ پر ہمارے یقین میں اضافہ کرتا رہے گا ، میں نے دل میں ایک بات سوچی تھی ، جسے میرے کانوں نے بھی نہیں سنا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم سناؤ ! میں سن رہا ہوں ، اس نے کہا: میں نے یہ سوچا تھا ( یعنی یہ اشعار موزوں کیے تھے : ) ” جب تم نومولود تھے ، میں تمہیں غذا فراہم کرتا رہا ، اور تمہارے بڑے ہونے تک میں تمہاری دیکھ بھال کرتا رہا ، اور جب کبھی رات کے وقت تمہیں تکلیف لاحق ہوئی تو میں نے تمہاری بیماری کی وجہ سے رات بے خوابی میں بے چین ہو کر گزار دی ، اور اب جب میں بیمار ہوا ہوں ، تو تم میرا خیال نہیں کرتے اور میری آنکھیں آنسو بہاتی ہیں ، مجھے تو تمہارے بارے میں یہ اندیشہ ہوتا تھا کہ کہیں تم ہلاک نہ ہو جاؤ ، حالانکہ میں یہ بھی جانتا تھا ، موت کا ایک حتمی وقت مقرر ہے ، اور پھر جب تم عمر کی اس حد تک پہنچ گئے جس کی مجھے خواہش تھی ، تو تم نے مجھے بدلے میں ناگوار صورتحال اور سختی دی ، گویا تم نعمت دینے والے اور فضل کرنے والے ہو ، جب تم نے میرے باپ ہونے کے حق کا لحاظ نہیں کیا ، تو اے کاش ! تم ویسا سلوک کر لیتے ، جو ایک پڑوسی دوسرے پڑوسی کے ساتھ کرتا ہے ، تم اس کو ( یعنی میرے بیٹے کو ) اختلاف کے لیے ہر وقت تیار دیکھو گے ، گویا اس کو درست موقف والوں کے خلاف وکیل مقرر کیا گیا ہے “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بیٹے کے گریبان کو پکڑا اور ارشاد فرمایا : ” تم اور تمہارا مال ، تمہارے باپ کا ہے “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا شخص ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں منکدر بن محمد نامی راوی ضعیف ہے ، امام أحمد نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اور اس حوالے سے یہ روایت منکر ہے ، اس سے پہلے یہ ایک اور سند کے ساتھ مختصر روایت کے طور پر گزر چکی ہے اور اس کی سند کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔