حدیث نمبر: 6771
وَعَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ قَالَ : حَضَرْتُ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ أَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ : يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِنَّ هَذَا يُرِيدُ أَنْ يَأْخُذَ مَالِي كُلَّهُ فَيَجْتَاحَهُ . فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ : مَا تَقُولُ ؟ قَالَ : نَعَمْ . فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : إِنَّمَا لَكَ مِنْ مَالِهِ مَا يَكْفِيكَ . فَقَالَ : يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللَّهِ، أَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنْتَ وَمَالُكَ لِأَبِيكَ " ؟ فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ : ارْضَ بِمَا رَضِيَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْمُنْذِرُ بْنُ زِيَادٍ الطَّائِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین

قیس بن ابوحازم بیان کرتے ہیں : میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا ، ایک شخص ان کے پاس آیا اور بولا: اے اللہ ! کے رسول کے خلیفہ ! یہ شخص ( یعنی میرا والد ) میرا پورا مال حاصل کر کے اسے ضائع کرنا چاہتا ہے ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس سے دریافت کیا : تم کیا کہتے ہو ؟ اس نے جواب دیا : جی ہاں ! سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس کے مال میں سے تمہیں صرف اتنا ملے گا جو تمہارے لئے کفایت کر جائے اس نے کہا: اے اللہ ! کے رسول کے خلیفہ ! کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد نہیں فرمائی ہے : ” تم اور تمہارا مال ، تمہارے باپ کا ہے “ تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا : تم اس چیز کے ذریعے راضی ہو جاؤ ، جس سے اللہ تعالیٰ راضی ہوتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی منذر بن زیاد طائی ہے اور وہ متروک ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6771
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الأوسط (810)»