حدیث نمبر: 6769
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ لِي مَالًا وَعِيَالًا ، وَإِنَّهُ يُرِيدُ أَنْ يَأْخُذَ مِنْ مَالِي إِلَى مَالِهِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنْتَ وَمَالُكَ لِأَبِيكَ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا شَيْخَ الطَّبَرَانِيِّ حَبُّوشَ بْنَ رِزْقِ اللَّهِ ، وَلَمْ يُضَعِّفْهُ أَحَدٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرا مال بھی ہے اور بال بچے بھی ہیں ، اور میرے والد یہ چاہتے ہیں کہ میرا مال لے کر اپنے مال میں شامل کر لیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم اور تمہارا مال ، تمہارے باپ کا ہے “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابن ماجہ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور امام طبرانی کے استاد حبوش بن رزق اللہ کے علاوہ اس روایت کے تمام رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ ان صاحب کو بھی کسی نے ضعیف قرار نہیں دیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6769
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن