کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اولاد کے مال کا حکم
حدیث نمبر: 6762
عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِرَجُلٍ : " أَنْتَ وَمَالُكَ لِأَبِيكَ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ أَبُو حَرِيزٍ وَثَّقَهُ أَبُو زُرْعَةَ ، وَأَبُو حَاتِمٍ وَابْنُ حِبَّانَ ، وَضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا : ” تم اور تمہارا مال ، تمہارے باپ کا ہے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوحریز ہے ، جسے ابوزرعہ ، ابوحاتم اور ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، جبکہ امام أحمد اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6762
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «ابو يعلى فى المسند (5731)»
حدیث نمبر: 6763
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ يَسْتَعْدِي عَلَى وَالِدِهِ ، فَقَالَ : إِنَّهُ يَأْخُذُ مَالِي . فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنْتَ وَمَالُكَ مِنْ كَسْبِ أَبِيكَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِي الْأَوْسَطِ مِنْهُ : " الْوَلَدُ مِنْ كَسْبِ الْوَالِدِ " فَقَطْ . ¤ وَفِيهِ مَيْمُونُ بْنُ يَزِيدَ لَيَّنَهُ أَبُو حَاتِمٍ ، وَوَهْبُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زِمَامٍ لَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک شخص آیا اور اس نے اپنے والد کے خلاف شکایت کی اور یہ کہا: وہ میرا مال حاصل کر لیتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : ” تم اور تمہارا مال ، تمہارے باپ کی کمائی کا حصہ ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے کبیر میں نقل کی ہے اور معجم اوسط میں اس میں سے صرف یہ الفاظ ہیں : ” اولاد والد کی کمائی کا حصہ ہے “ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی میمون بن یزید ہے ، جسے ابوحاتم نے کمزور قرار دیا ہے اور وہب بن یحیی بن زمام نامی راوی کے حالات بیان کرتے ہوئے میں نے کسی کو نہیں پایا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6763
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1259) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (13345)»
حدیث نمبر: 6764
وَعَنْ عُمَرَ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : إِنَّ أَبِي يُرِيدُ أَنْ يَأْخُذَ مَالِي . قَالَ : " أَنْتَ وَمَالُكَ لِأَبِيكَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ . وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عُمَرَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور بولا: میرے والد یہ چاہتے ہیں کہ میرا مال حاصل کر لیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اور تمہارا مال ، تمہارے باپ کا ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور سعید بن مسیب نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6764
درجۂ حدیث محدثین: إسناده منقطع
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1261)»
حدیث نمبر: 6765
وَعَنْ سَمُرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِرَجُلٍ : " أَنْتَ وَمَالُكَ لِأَبِيكَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْجُودَانِيُّ قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : لَيِّنٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ الْبَزَّارِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا : ” تم اور تمہارا مال ، تمہارے باپ کا ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے ، اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن اسماعیل جودانی ہے ابوحاتم کہتے ہیں : یہ کمزور ہے ، امام بزار کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6765
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1260) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6961)»
حدیث نمبر: 6766
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْوَلَدُ مِنْ كَسْبِ الْوَالِدِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بِلَالٍ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اولاد ، والد کی کمائی کا حصہ ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابوبلال ہے ، میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6766
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 6767
وَعَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ نِيَارٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَفْضَلُ كَسْبِ الرَّجُلِ وَلَدُهُ ، وَكُلُّ بَيْعٍ مَبْرُورٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ جُمَيْعُ بْنُ عُمَيْرٍ ضَعَّفَهُ ابْنُ عَدِيٍّ ، وَقَالَ الْبُخَارِيُّ : مِنْ عُتَّقِ الشِّيعَةِ . وَهُوَ صَالِحُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبردہ بن نیار رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” آدمی کی سب سے زیادہ فضیلت والی کمائی ، اُس کی اولاد ہے اور ہر نیک ( یعنی جائز ) سودا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جمیع بن عمیر ہے ، جسے ابن عدی نے ضعیف قرار دیا ہے ، امام بخاری رحمہ اللہ کہتے ہیں : یہ شیعہ کے اکابرین میں سے ایک ہے اور یہ صالح الحدیث ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6767
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 6768
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِرَجُلٍ : " أَنْتَ وَمَالُكَ لِأَبِيكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ ذِي حَمَّادٍ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا : ” تم اور تمہارا مال ، تمہارے باپ کا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن عبدالحمید بن ذی حماد ہے ، میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6768
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (2) اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (170 مجمع البحرين ) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10019)»
حدیث نمبر: 6769
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ لِي مَالًا وَعِيَالًا ، وَإِنَّهُ يُرِيدُ أَنْ يَأْخُذَ مِنْ مَالِي إِلَى مَالِهِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنْتَ وَمَالُكَ لِأَبِيكَ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا شَيْخَ الطَّبَرَانِيِّ حَبُّوشَ بْنَ رِزْقِ اللَّهِ ، وَلَمْ يُضَعِّفْهُ أَحَدٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرا مال بھی ہے اور بال بچے بھی ہیں ، اور میرے والد یہ چاہتے ہیں کہ میرا مال لے کر اپنے مال میں شامل کر لیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم اور تمہارا مال ، تمہارے باپ کا ہے “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام ابن ماجہ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور امام طبرانی کے استاد حبوش بن رزق اللہ کے علاوہ اس روایت کے تمام رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ ان صاحب کو بھی کسی نے ضعیف قرار نہیں دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6769
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 6770
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبِي أَخَذَ مَالِي فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اذْهَبْ فَأْتِنِي بِأَبِيكَ " . فَنَزَلَ جِبْرِيلُ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُقْرِئُكَ السَّلَامَ وَيَقُولُ لَكَ : إِذَا جَاءَكَ الشَّيْخُ فَسَلْهُ عَنْ شَيْءٍ قَالَهُ فِي نَفْسِهِ ، مَا سَمِعَتْهُ أُذُنَاهُ " . فَلَمَّا جَاءَ الشَّيْخُ قَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا بَالُ ابْنِكَ يَشْكُوكَ أَتُرِيدُ أَنْ تَأْخُذَ مَالَهُ ؟ " . فَقَالَ : سَلْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلْ أَنْفَقْتُهُ إِلَّا عَلَى إِحْدَى عَمَّاتِهِ أَوْ خَالَاتِهِ أَوْ عَلَى نَفْسِي ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِيهْ دَعْنَا مِنْ هَذَا ، أَخْبِرْنِي عَنْ شَيْءٍ قُلْتَهُ فِي نَفْسِكَ مَا سَمِعَتْهُ أُذُنَاكَ " . فَقَالَ الشَّيْخُ : وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا يَزَالُ اللَّهُ يَزِيدُنَا بِكَ يَقِينًا ، لَقَدْ قُلْتُ شَيْئًا فِي نَفْسِي مَا سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ، فَقَالَ : " قُلْ ، وَأَنَا أَسْمَعُ " . قَالَ : قُلْتُ : ¤ غَذَوْتُكَ مَوْلُودًا وَمُنْتُكَ يَافِعًا تُعِلُّ بِمَا أَجْنِي عَلَيْكَ وَتَنْهَلُ . ¤ إِذَا لَيْلَةٌ ضَاَفَتْكَ بِالسَّقْمِ لَمْ أَبِتْ ¤ لِسَقْمِكَ إِلَّا سَاهِرًا أَتَمَلْمَلُ . ¤ كَأَنِّي أَنَا الْمَطْرُوقُ دُونَكَ بِالَّذِي ¤ طُرِقْتَ بِهِ دُونِي فَعَيْنِي تَهْمِلُ . ¤ تَخَافُ الرَّدَى نَفْسِي عَلَيْكَ وَإِنَّهَا ¤ لَتَعْلَمُ أَنَّ الْمَوْتَ وَقْتٌ مُؤَجَّلُ . ¤ فَلَمَّا بَلَغْتَ السِّنَّ وَالْغَايَةَ الَّتِي ¤ إِلَيْهَا مَدَى مَا كُنْتُ فِيكَ أُؤَمِّلُ . ¤ جَعَلْتَ جَزَائِي غِلْظَةً وَفَظَاظَةً ¤ كَأَنَّكَ أَنْتَ الْمُنْعِمُ الْمُتَفَضِّلُ . ¤ فَلَيْتَكَ إِذْ لَمْ تَرْعَ حَقَّ أُبُوَّتِي ¤ فَعَلْتَ كَمَا الْجَارُ الْمُجَاوِرُ يَفْعَلُ . ¤ تَرَاهُ مُعِدٍّا لِلْخِلَافِ كَأَنَّهُ ¤ بَرَدٍّ عَلَى أَهْلِ الصَّوَابِ مُوَكَّلُ . ¤ قَالَ : حِينَئِذٍ أَخَذَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِتَلَابِيبِ ابْنِهِ فَقَالَ : " أَنْتَ وَمَالُكَ لِأَبِيكَ " . ¤ قُلْتُ : رَوَى ابْنُ مَاجَهْ طَرَفًا مِنْهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . وَالْمُنْكَدِرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ أَحْمَدُ، وَالْحَدِيثُ بِهَذَا التَّمَامِ مُنْكَرٌ ، وَقَدْ تَقَدَّمَتْ لَهُ طَرِيقٌ مُخْتَصَرَةٌ رِجَالُ إِسْنَادِهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے والد نے میرا مال لے لیا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم جاؤ اور اپنے والد کو میرے پاس لے کے آؤ ، سیدنا جبرائیل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، اور بولے : اللہ تعالیٰ نے آپ کو سلام کہا: ہے اور اس نے آپ سے یہ فرمایا ہے کہ جب وہ بوڑھا شخص آپ کے پاس آئے ، تو آپ اس سے اس چیز کے بارے میں دریافت کریں ، جو اس نے دل میں سوچی ہے ، اس کے کانوں نے اسے نہیں سنا ، جب وہ بوڑھا شخص آیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : تمہارے بیٹے کا کیا معاملہ ہے کہ وہ تمہاری شکایت کر رہا ہے ؟ کیا تم یہ چاہتے ہو کہ تم اس کا مال حاصل کر لو ؟ اس شخص نے کہا: یا رسول اللہ ! آپ اس سے پوچھ لیں ، میں وہ مال ، یا تو اس کی کسی پھوپھی پر ، یا اس کی خالہ پر ، یا اپنے اوپر خرچ کرتا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : چلو اس بات کو رہنے دو ، تم مجھے اس چیز کے بارے میں بتاؤ ، جو تم نے صرف دل میں سوچی ہے اور تمہارے کانوں نے بھی اسے نہیں سنا ، تو اس بوڑھے نے کہا: اللہ کی قسم یا رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ مسلسل آپ پر ہمارے یقین میں اضافہ کرتا رہے گا ، میں نے دل میں ایک بات سوچی تھی ، جسے میرے کانوں نے بھی نہیں سنا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم سناؤ ! میں سن رہا ہوں ، اس نے کہا: میں نے یہ سوچا تھا ( یعنی یہ اشعار موزوں کیے تھے : ) ” جب تم نومولود تھے ، میں تمہیں غذا فراہم کرتا رہا ، اور تمہارے بڑے ہونے تک میں تمہاری دیکھ بھال کرتا رہا ، اور جب کبھی رات کے وقت تمہیں تکلیف لاحق ہوئی تو میں نے تمہاری بیماری کی وجہ سے رات بے خوابی میں بے چین ہو کر گزار دی ، اور اب جب میں بیمار ہوا ہوں ، تو تم میرا خیال نہیں کرتے اور میری آنکھیں آنسو بہاتی ہیں ، مجھے تو تمہارے بارے میں یہ اندیشہ ہوتا تھا کہ کہیں تم ہلاک نہ ہو جاؤ ، حالانکہ میں یہ بھی جانتا تھا ، موت کا ایک حتمی وقت مقرر ہے ، اور پھر جب تم عمر کی اس حد تک پہنچ گئے جس کی مجھے خواہش تھی ، تو تم نے مجھے بدلے میں ناگوار صورتحال اور سختی دی ، گویا تم نعمت دینے والے اور فضل کرنے والے ہو ، جب تم نے میرے باپ ہونے کے حق کا لحاظ نہیں کیا ، تو اے کاش ! تم ویسا سلوک کر لیتے ، جو ایک پڑوسی دوسرے پڑوسی کے ساتھ کرتا ہے ، تم اس کو ( یعنی میرے بیٹے کو ) اختلاف کے لیے ہر وقت تیار دیکھو گے ، گویا اس کو درست موقف والوں کے خلاف وکیل مقرر کیا گیا ہے “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بیٹے کے گریبان کو پکڑا اور ارشاد فرمایا : ” تم اور تمہارا مال ، تمہارے باپ کا ہے “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا شخص ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں منکدر بن محمد نامی راوی ضعیف ہے ، امام أحمد نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اور اس حوالے سے یہ روایت منکر ہے ، اس سے پہلے یہ ایک اور سند کے ساتھ مختصر روایت کے طور پر گزر چکی ہے اور اس کی سند کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6770
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (947)»
حدیث نمبر: 6771
وَعَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ قَالَ : حَضَرْتُ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ أَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ : يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِنَّ هَذَا يُرِيدُ أَنْ يَأْخُذَ مَالِي كُلَّهُ فَيَجْتَاحَهُ . فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ : مَا تَقُولُ ؟ قَالَ : نَعَمْ . فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : إِنَّمَا لَكَ مِنْ مَالِهِ مَا يَكْفِيكَ . فَقَالَ : يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللَّهِ، أَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنْتَ وَمَالُكَ لِأَبِيكَ " ؟ فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ : ارْضَ بِمَا رَضِيَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْمُنْذِرُ بْنُ زِيَادٍ الطَّائِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
قیس بن ابوحازم بیان کرتے ہیں : میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا ، ایک شخص ان کے پاس آیا اور بولا: اے اللہ ! کے رسول کے خلیفہ ! یہ شخص ( یعنی میرا والد ) میرا پورا مال حاصل کر کے اسے ضائع کرنا چاہتا ہے ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس سے دریافت کیا : تم کیا کہتے ہو ؟ اس نے جواب دیا : جی ہاں ! سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس کے مال میں سے تمہیں صرف اتنا ملے گا جو تمہارے لئے کفایت کر جائے اس نے کہا: اے اللہ ! کے رسول کے خلیفہ ! کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد نہیں فرمائی ہے : ” تم اور تمہارا مال ، تمہارے باپ کا ہے “ تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا : تم اس چیز کے ذریعے راضی ہو جاؤ ، جس سے اللہ تعالیٰ راضی ہوتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی منذر بن زیاد طائی ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6771
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الأوسط (810)»
حدیث نمبر: 6772
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيَّمَا رَجُلٍ نَحَلَ ابْنَهُ نَحْلًا فَبَانَ بِهِ الِابْنُ فَاحْتَاجَ الْأَبُ فَالِابْنُ أَحَقُّ بِهِ ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ بَانَ بِهِ الِابْنُ فَالْأَبُ أَحَقُّ بِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ رِشْدِينُ بْنُ كُرَيْبٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص اپنے بیٹے کو کوئی چیز عطیہ کے طور پر دے ، اور وہ بیٹا اس چیز کو لے کر الگ ہو جائے ، پھر اگر باپ محتاج ہو جائے تو بیٹا اس چیز کے بارے میں زیادہ حق رکھتا ہو گا ، لیکن اگر بیٹا اسے لے کر الگ نہیں ہوا تھا ، تو پھر باپ اس چیز کا زیادہ حق دار ہو گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی رشدین بن کریب ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6772
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف