مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابُ إِرْسَالِ الْهَدِيَّةِ ، وَمَتَى تُمْلَكُ . باب: تحفہ بھجوانا اور یہ کب ملکیت میں آتا ہے ؟
وَعَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ قَالَ : نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَنْزِلًا ، فَبَعَثَتْ لَهُ امْرَأَةٌ مَعَ ابْنٍ لَهَا بِشَاةٍ ، فَحَلَبَ ، ثُمَّ قَالَ : " انْطَلِقْ بِهِ إِلَى أُمِّكَ " . فَشَرِبَتْ حَتَّى رُوِيَتْ ، ثُمَّ جَاءَ بِشَاةٍ أُخْرَى فَحَلَبَ ، ثُمَّ قَالَ :" اسْقِ أَبَا بَكْرٍ " ثُمَّ جَاءَ بِشَاةٍ أُخْرَى فَحَلَبَ ، ثُمَّ شَرِبَ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي لَيْلَى ، وَفِيهِ كَلَامٌ . وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِي بَكْرٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جگہ پڑاؤ کیا ، ایک خاتون نے اپنے بیٹے کے ذریعے آپ کی خدمت میں بکری بھجوائی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا دودھ دوہ لیا ، پھر ارشاد فرمایا تم اسے لے کر اپنی والدہ کے پاس جاؤ ، اس خاتون نے اسے پی لیا ، یہاں تک کہ وہ سیر ہو گئی ، پھر وہ بچہ دوسری بکری لے کر آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا دودھ دوہ لیا ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : یہ ابوبکر کو پلاؤ ! پھر وہ ایک اور بکری لے کر آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا دودھ دوہ لیا ، پھر خود اُس کا دودھ پیا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابولیلیٰ ہے اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ، الرحمن بن ابولیلی نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے اور اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔