مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابُ إِرْسَالِ الْهَدِيَّةِ ، وَمَتَى تُمْلَكُ . باب: تحفہ بھجوانا اور یہ کب ملکیت میں آتا ہے ؟
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ : بَعَثَتْنِي أُمِّي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِقَطْفٍ مِنْ عِنَبٍ ، فَأَكَلْتُهُ ، فَقَالَتْ أُمِّي لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَلْ أَتَاكَ عَبْدُ اللَّهِ بِقَطْفٍ ؟ قَالَ : " لَا " فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا رَآنِي قَالَ : " غُدَرُ غُدَرُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الْحَكَمُ بْنُ الْوَلِيدِ ؛ ذَكَرَهُ ابْنُ عَدِيٍّ فِي الْكَامِلِ ، وَذَكَرَ لَهُ هَذَا الْحَدِيثَ ، وَقَالَ : لَا أَعْرِفُ هَذَا عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ إِلَّا الْحَكَمَ . هَذَا مَعْنَى كَلَامِهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عبدالله بن بسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میری والدہ نے مجھے انگوروں کا گچھہ دے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا ، وہ میں نے خود کھا لیے ، میری والدہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا : کیا عبداللہ آپ کے پاس گچھہ لے کے آیا تھا ؟ آپ نے فرمایا : جی نہیں ! اس کے بعد جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ملاحظہ فرمایا تو ارشاد فرمایا : نالائق ، نالائق ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حکم بن ولید ہے ، جس کا ذکر ابن عدی نے کتاب الکامل میں کیا ہے ، انہوں نے اس کے حوالے سے یہ حدیث ذکر کی ہے اور یہ بات بیان کی ہے : میں سیدنا عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے منقول اس حدیث سے صرف حکم سے منقول روایت کے طور پر واقف ہوں ، ان کے کلام کا مفہوم یہ ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔