مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابُ إِرْسَالِ الْهَدِيَّةِ ، وَمَتَى تُمْلَكُ . باب: تحفہ بھجوانا اور یہ کب ملکیت میں آتا ہے ؟
وَعَنْ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ قَالَتْ : لَمَّا تَزَوَّجَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أُمَّ سَلَمَةَ قَالَ لَهَا : " إِنِّي أَهْدَيْتُ إِلَى النَّجَاشِيِّ حُلَّةً ، وَأَوَاقِيَ مِنْ مِسْكٍ ، وَلَا أَرَى النَّجَاشِيَّ إِلَّا قَدْ مَاتَ ، وَلَا أَرَى هَدِيَّتِي إِلَّا مَرْدُودَةً عَلَيَّ ، فَإِنْ رُدَّتْ عَلَيَّ فَهِيَ لَكِ " . قَالَ : وَكَانَ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَرُدَّتْ عَلَيْهِ هَدِيَّتُهُ فَأَعْطَى كُلَّ امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِهِ أُوقِيَةَ مِسْكٍ وَأَعْطَى أُمَّ سَلَمَةَ بَقِيَّةَ الْمِسْكِ وَالْحُلَّةَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزَّنْجِيُّ ؛ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ ، وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَأُمُّ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ أَعْرِفُهَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ وَيَأْتِي حَدِيثُ أُمِّ سَلَمَةَ فِي إِخْبَارِهِ بِالْمُغَيَّبَاتِ . ¤سیدہ ام کلثوم بنت ابوسلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : میں نے نجاشی کو ایک حلہ اور مشک کے کچھ اوقیہ تحفے کے طور پر بھجوائے ہیں ، لیکن میرا خیال ہے نجاشی کا انتقال ہو چکا ہے ، اور وہ تحفہ میرے پاس واپس آ جائے گا ، اگر وہ میرے پاس واپس آ گیا ، تو وہ ( حلہ ) تمہارا ہو گا ، راوی بیان کرتے ہیں : اسی طرح ہوا ، جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا ، آپ کا تحفہ اسی طرح آپ کے پاس واپس آ گیا ، تو آپ نے اپنی ازواج میں سے ہر ایک خاتون کو مشک کا ایک اوقیہ دیا ، اور باقی بچ جانے والا مشک اور حلہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو دے دیا ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مسلم بن خالد زنگی ہے ، جسے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ، ام موسیٰ بنت عقبہ سے میں واقف ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے منقول حدیث آگے آئے گی ، جس میں ۔ انہوں نے ان خواتین کے بارے میں بتایا ہے ، جن کے شوہر موجود نہیں ہوتے ہیں ۔