مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العلم— علم کے بارے میں روایات
بَابُ كِتَابَةِ الْعِلْمِ . باب: علم کو تحریر کرنا
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَابْنِ عُمَرَ قَالَا : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَعْصُوبًا رَأْسُهُ ، فَرَقِيَ الْمِنْبَرَ فَقَالَ : " مَا هَذِهِ الْكُتُبُ الَّتِي يَبْلُغُنِي أَنَّكُمْ تَكْتُبُونَهَا ، أَكِتَابٌ مَعَ كِتَابِ اللَّهِ ؟ يُوشِكُ أَنْ يَغْضَبَ اللَّهُ لِكِتَابِهِ ، فَيُسْرَى عَلَيْهِ لَيْلًا ; فَلَا يَتْرُكُ فِي وَرَقَةٍ وَلَا فِي قَلْبٍ مِنْهُ حَرْفًا إِلَّا ذَهَبَ بِهِ " ، فَقَالَ بَعْضُ مَنْ حَضَرَ الْمَجْلِسَ : فَكَيْفَ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِالْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ ؟ قَالَ : " مَنْ أَرَادَ اللَّهَ بِهِ خَيْرًا أَبْقَى فِي قَلْبِهِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عِيسَى بْنُ مَيْمُونٍ الْوَاسِطِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ( ایک مرتبہ ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر پر کپڑا باندھا ہوا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے اور ارشاد فرمایا : ” ان تحریروں کا کیا معاملہ ہے ؟ جن کے بارے میں مجھ تک یہ اطلاع پہنچی ہے کہ تم انہیں نوٹ کرتے ہو ، کیا اللہ کی کتاب کے ہمراہ کچھ نوٹ کیا جائے گا ؟ عنقریب ایسا ہو گا کہ اللہ تعالیٰ اپنی کتاب کی وجہ سے غضبناک ہو گا اور پھر اس کتاب کو رات کے وقت اُٹھا لیا جائے گا ، یہاں تک کہ وہ ( اللہ تعالیٰ ) کسی ورق میں ، یا کسی دل میں اُس کا ایک حرف بھی نہیں چھوڑے گا ، مگر یہ کہ اسے اٹھا لے گا “ حاضرین میں سے کسی نے کہا: یا رسول اللہ ! پھر مؤمن مردوں اور مؤمن خواتین کا کیا بنے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ جس کے بارے میں بھلائی کا ارادہ کرے گا ، اُس کے دل میں لا الہ الا اللہ باقی رہنے دے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن میمون واسطی ہے اور وہ متروک ہے ، حماد بن سلمہ نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔