مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العلم— علم کے بارے میں روایات
بَابُ طَلَبِ الْإِسْنَادِ مِمَّنْ أَرْسَلَ . باب: جو شخص "" مرسل "" روایت بیان کرے، اُس سے سند کا مطالبہ کرنا
عَنْ مُبَارَكِ بْنِ فَضَالَةَ قَالَ : قَامَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَوْ إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ إِلَى الْحَسَنِ ، فَقَالَ : يَا أَبَا سَعِيدٍ ، إِنَّا نَسْمَعُ مِنْكَ أَحَادِيثَ تُحَدِّثُ بِهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَسْنِدْهَا لَنَا ، فَقَالَ : سَلْ عَمَّا بَدَا لَكَ ، فَقَالَ : حَدِيثُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي قِيَامِ السَّاعَةِ ، فَقَالَ : حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَحَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قُدَامَةَ - وَكَانَ امْرَأَ صِدْقٍ - عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ سَرِيعٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . قَالَ : فَقَامُوا وَقَالُوا : كِدْنَا نَغْلِبُ عَلَى هَذَا الشَّيْخِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ هَكَذَا ، وَفِي إِسْنَادِهِ مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ مُدَلِّسٌ . ¤مبارک بن فضالہ بیان کرتے ہیں : اسماعیل بن ابراہیم ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) ابراہیم بن اسماعیل ، حسن بصری کے سامنے کھڑے ہوئے اور بولے : اے ابوسعید ! ہم نے آپ سے کئی ایسی احادیث سنی ہیں ، جو آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے بیان کی ہیں ، آپ اُن کی سند ہمارے سامنے بیان کر دیں ! حسن بصری نے فرمایا : تم جس ( حدیث ) کے بارے میں چاہو پوچھ لو ! تو اُن صاحب نے کہا: قیامت قائم ہونے کے بارے میں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول حدیث ( کی سند آپ بیان کر دیں ! ) تو حسن بصری نے جواب دیا : یہ حدیث سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے مجھے بیان کی ہے ، اور یہ حدیث سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے مجھے بیان کی ہے ، اور یہ حدیث عبداللہ بن قدامہ نے ، جو ایک سچے آدمی تھے ، اُنہوں نے سیدنا اسود بن سریع رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مجھے بیان کی ہے ۔
راوی بیان کرتے ہیں : تو وہ لوگ اُٹھ کھڑے ہوئے اور بولے : ہم اس بزرگ ( یعنی حسن بصری ) پر غالب نہیں آ سکتے ہیں ۔