مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الإيمان— ایمان کے بارے میں روایات
بَابٌ مِنْهُ فِيمَا كُتِبَ بِالْأَمَانِ لِمَنْ فَعَلَهُ . باب: جو شخص ایسا کر لیتا ہے اُس کے لیے امان تحریر کئے جانے کے بارے میں کیا منقول ہے؟
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَحْمَرَ أَنَّهُ لَمَّا بَلَغَهُ قُدُومُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَفَدَ إِلَيْهِ ، فَقَبِلَ إِسْلَامَهُ ، وَسَأَلَهُ أَنْ يَكْتُبَ لَهُ كِتَابًا يَدْعُو بِهِ إِلَى الْإِسْلَامِ ، فَكَتَبَ لَهُ فِي رُقْعَةٍ مِنْ أَدَمٍ : " بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ، هَذَا كِتَابٌ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِمَالِكِ بْنِ أَحْمَرَ وَلِمَنِ اتَّبَعَهُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، أَمَانًا لَهُمْ مَا أَقَامُوا الصَّلَاةَ ، وَآتَوُا الزَّكَاةَ ، وَاتَّبَعُوا الْمُسْلِمِينَ ، وَجَانَبُوا الْمُشْرِكِينَ ، وَأَدَّوُا الْخُمُسَ مِنَ الْمَغْنَمِ ، وَسَهْمَ الْغَارِمِينَ ، وَسَهْمَ كَذَا ، وَسَهْمَ كَذَا - فَهُمْ آمِنُونَ بِأَمَانِ اللَّهِ وَأَمَانِ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِي إِسْنَادِهِ سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ الْجُذَامِيُّ ، وَلَمْ أَقِفْ لَهُ عَلَى تَرْجَمَةٍ . ¤سیدنا مالک بن احمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کی اطلاع ملی ، تو وہ وفد کی شکل میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ درخواست کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لیے کوئی تحریر لکھوا دیں ، جس میں انہیں اسلام کی دعوت دی گئی ہو ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کے لئے چمڑے کے ٹکڑے پر یہ تحریر لکھوائی : ”اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ، جو بڑا مہربان ، نہایت رحم کرنے والا ہے ، یہ تحریر ، اللہ کے رسول سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ، مالک بن احمر کے لیے ، اور ان کی پیروی کرنے والے مسلمانوں کے لئے ہے ، یہ ان کے لیے امان نامہ ہے ، جب تک وہ نماز قائم کرتے رہیں گے ، زکوۃ دیتے رہیں گے ، مسلمانوں کی پیروی کرتے رہیں گے مشرکین سے لاتعلق رہیں گے ، مال غنیمت میں سے خمس ادا کریں گے ، غار میں کا حصہ ، اور فلاں حصہ ، اور فلاں حصہ ادا کریں گے ، تو یہ لوگ ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملنے والی امان ، اور اللہ کے رسول سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ملنے والی امان کے تحت محفوظ رہیں گئے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سعید بن منصور جزامی ہے ، میں اُس کے حالات سے واقف نہیں ہو سکا ۔