حدیث نمبر: 6662
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يَدْعُو اللَّهُ بِصَاحِبِ الدَّيْنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يُوقَفَ بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَيُقَالُ : يَا ابْنَ آدَمَ ، فِيمَا أَخَذْتَ هَذَا الدَّيْنَ ، وَفِيمَا ضَيَّعْتَ حُقُوقَ النَّاسِ ؟ فَيَقُولُ : يَا رَبِّ ، إِنَّكَ تَعْلَمُ أَنِّي أَخَذْتُهُ ، فَلَمْ آكُلْ ، وَلَمْ أَشْرَبْ ، وَلَمْ أَلْبَسْ ، وَلَمْ أُضَيِّعْ ، وَلَكِنْ أَتَى عَلَيَّ إِمَّا حَرْقٌ ، وَإِمَّا سَرَقٌ ، وَإِمَّا وَضِيعَةٌ . فَيَقُولُ اللَّهُ : صَدَقَ عَبْدِي ، أَنَا أَحَقُّ مَنْ قَضَى عَنْكَ الْيَوْمَ ، فَيَدْعُو اللَّهُ بِشَيْءٍ فَيَضَعُهُ فِي كِفَّةِ مِيزَانِهِ ، فَتَرْجَحُ حَسَنَاتُهُ عَلَى سَيِّئَاتِهِ فَيَدْخُلُ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ صَدَقَةُ الدَّقِيقِيُّ ؛ وَثَّقَهُ مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبدالرحمن بن ابوبکر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت کے دن ، اللہ تعالیٰ مقروض کو بلائے گا ، یہاں تک کہ اس کو سامنے کھڑا کر دے گا اور یہ کہے گا : اے ابن آدم ! تو نے اس شخص کا قرض کس لئے حاصل کیا تھا ؟ اور لوگوں کے حقوق کیوں ضائع کیے تھے ؟ وہ عرض کرے گا : اے میرے پروردگار ! تو یہ بات جانتا ہے کہ میں نے یہ لیا تھا اور میں نے اسے کھایا نہیں تھا ، پیا نہیں تھا ، لباس کے طور پر پہنا نہیں تھا ، اور میں نے ضائع نہیں کیا تھا ، بلکہ مجھ پر آفت آ گئی تھی ، جو جلنے کی صورت میں ، یا چوری کی صورت میں یا نقصان کی صورت میں تھی ، تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا : میرے بندے نے سچ کہا: ہے اور میں اس بات کا زیادہ حق رکھتا ہوں کہ آج تمہاری طرف سے ادائیگی کر دوں ، پھر اللہ تعالیٰ کوئی چیز منگوائے گا اور وہ اُس کے میزان کے پلڑے میں رکھ دے گا ، تو اس کی نیکیوں کا پلڑا ، اس کی برائیوں سے بھاری ہو جائے گا ، تو وہ شخص اللہ تعالیٰ کی رحمت کے فضل کی وجہ سے ، جنت میں داخل ہو جائے گا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے ، اور امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی صدقہ دقیقی ہے مسلم بن ابراہیم نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6662
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1332) اخرجه احمد فى المسند (1707 مختصراو 1708 مطولا)»