حدیث نمبر: 6663
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ثَلَاثٌ مَنْ تَدَيَّنَ فِيهِنَّ ، ثُمَّ مَاتَ ، وَلَمْ يَقْضِ ، فَإِنَّ اللَّهَ يَقْضِي عَنْهُ : رَجُلٌ يَكُونُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيَخْلَقُ ثَوْبُهُ ، فَيَخَافُ أَنْ تَبْدُوَ عَوْرَتَهُ - أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا - فَيَمُوتُ وَلَمْ يَقْضِ ، وَرَجُلٌ مَاتَ عِنْدَهُ رَجُلٌ مُسْلِمٌ فَلَمْ يَجِدْ مَا يُكَفِّنُهُ وَلَا مَا يُوَارِيهِ ، فَمَاتَ وَلَمْ يَقْضِ ، وَرَجُلٌ خَافَ عَلَى نَفْسِهِ الْعَنَتَ فَتَعَفَّفَ بِنِكَاحِ امْرَأَةٍ ، فَمَاتَ وَلَمْ يَقْضِ ، فَإِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقْضِي عَنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤ وَهُوَ عِنْدَ ابْنِ مَاجَهْ مَعَ اخْتِلَافٍ فِي بَعْضِهِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تین قسم کی صورت حال ایسی ہے کہ جو شخص اس صورت حال میں قرض لے اور اسے ادا کیے بغیر مر جائے ، تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف سے ادائیگی کروا دے گا ، وہ شخص جو اللہ کی راہ میں ( جہاد میں ) ہو اور اس کا لباس پرانا ہو جائے اور اسے یہ اندیشہ ہو کہ اب اس کی شرمگاہ ظاہر ہو جائے گی ، یا اس کی مانند کوئی اور کلمہ ہے ، پھر وہ شخص مر جائے اور اس نے قرض واپس نہ کیا ہو ، یا وہ شخص جس کے پاس کوئی مسلمان شخص فوت ہو جائے ، اور وہ شخص اس کو کفن دینے کے لئے اور اس کے جسم کو ڈھانپنے کے لئے کوئی چیز نہ پاتا ہو ( تو وہ قرض لے کر کفن دفن کا انتظام کرے ) اور پھر وہ قرض ادا کرنے سے پہلے خود فوت ہو جائے ، اور وہ شخص جسے اپنی ذات کے حوالے سے گناہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہو ، تو وہ کسی عورت کے ساتھ نکاح کر کے پاک دامنی اختیار کرنا چاہتا ہو ( اور وہ قرض لے کر شادی کر لے ) اور پھر قرض کی ادائیگی سے پہلے انتقال کر جائے ، تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس شخص کی طرف سے قرض کو ادا کروا دے گا“ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن زیاد بن انعم ہے اور وہ ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن زیاد بن انعم ہے اور وہ ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6663
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1340)»