مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ نَوَى قَضْيَ دَيْنِهِ وَاهْتَمَّ بِهِ . باب: اس شخص کا بیان ، جو اپنے قرض کی ادائیگی کی نیت کرتا ہے اور اس بارے میں کوشش کرتا ہے ( یا اس بارے میں پریشان ہوتا ہے )
حدیث نمبر: 6661
وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدَهُ أَيْضًا : " كَانَ لَهُ مِنَ اللَّهِ عَوْنٌ وَسَبَّبَ اللَّهُ لَهُ رِزْقًا " . ¤ وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عَائِشَةَ ، وَإِسْنَادُ الطَّبَرَانِيِّ مُتَّصِلٌ إِلَّا أَنَّ فِيهِ سَعِيدَ بْنَ الصَّلْتِ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، وَلَمْ أَجِدْ إِلَّا وَاحِدًا يَرْوِي عَنِ الصَّحَابَةِ فَلَيْسَ بِهِ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤محمد محی الدین
ان کی نقل کردہ ایک روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : ” اُس شخص کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ اس کے لئے رزق کا سبب پیدا کر دیتا ہے “ ۔ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ محمد بن علی بن حسین ( شاید امام باقر مراد ہیں ) نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سماع نہیں کیا ہے امام طبرانی کی سند متصل ہے ، البتہ اس کی سند میں یہ بات مذکور ہے : سعید بن صلت نے ہشام بن عروہ سے
یہ روایت نقل کی ہے اور میں نے ایسے ایک شخص کو پایا ہے ، جس نے صحابی سے روایت نقل کی ہو ، اور اس میں کوئی حرج نہیں ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔