حدیث نمبر: 6660
وَفِي رِوَايَةٍ : " مَنْ كَانَ عَلَيْهِ دَيْنٌ هَمَّهُ قَضَاؤُهُ ، أَوْ هَمَّ بِقَضَائِهِ لَمْ يَزَلْ مَعَهُ مِنَ اللَّهِ حَارِسٌ " . ¤ رَوَاهُ كُلَّهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَقَالَتْ : فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ لَا يَزَالَ مَعِي مِنَ اللَّهِ حَارِسٌ . وَفِيهِ قِصَّةٌ . ¤
محمد محی الدین

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” جس شخص کے ذمہ قرض لازم ہو اور اس کی نیت اسے ادا کرنے کی ہو ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) وہ اس کی ادائیگی کی کوشش کرتا ہو ، تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مسلسل ایک محافظ اُس کے ساتھ رہتا ہے “ ۔ یہ تمام روایات امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہیں ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : تو میں اس بات کو پسند کرتی ہوں کہ میرے ساتھ مسلسل اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک محافظ رہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس روایت میں پورا واقعہ منقول ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6660
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح