مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ نَوَى قَضْيَ دَيْنِهِ وَاهْتَمَّ بِهِ . باب: اس شخص کا بیان ، جو اپنے قرض کی ادائیگی کی نیت کرتا ہے اور اس بارے میں کوشش کرتا ہے ( یا اس بارے میں پریشان ہوتا ہے )
حدیث نمبر: 6660
وَفِي رِوَايَةٍ : " مَنْ كَانَ عَلَيْهِ دَيْنٌ هَمَّهُ قَضَاؤُهُ ، أَوْ هَمَّ بِقَضَائِهِ لَمْ يَزَلْ مَعَهُ مِنَ اللَّهِ حَارِسٌ " . ¤ رَوَاهُ كُلَّهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَقَالَتْ : فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ لَا يَزَالَ مَعِي مِنَ اللَّهِ حَارِسٌ . وَفِيهِ قِصَّةٌ . ¤محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” جس شخص کے ذمہ قرض لازم ہو اور اس کی نیت اسے ادا کرنے کی ہو ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) وہ اس کی ادائیگی کی کوشش کرتا ہو ، تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مسلسل ایک محافظ اُس کے ساتھ رہتا ہے “ ۔ یہ تمام روایات امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہیں ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : تو میں اس بات کو پسند کرتی ہوں کہ میرے ساتھ مسلسل اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک محافظ رہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس روایت میں پورا واقعہ منقول ہے ۔