حدیث نمبر: 666
عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ : بَعَثَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِلَى ابْنِ مَسْعُودٍ وَأَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ وَأَبِي الدَّرْدَاءِ ، فَقَالَ : مَا هَذَا الْحَدِيثُ الَّذِي تُكْثِرُونَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ فَحَبَسَهُمْ بِالْمَدِينَةِ حَتَّى اسْتُشْهِدَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ . قُلْتُ : هَذَا أَثَرٌ مُنْقَطِعٌ ، وَإِبْرَاهِيمُ وُلِدَ سَنَةَ عِشْرِينَ ، وَلَمْ يُدْرِكْ مِنْ حَيَاةِ عُمَرَ إِلَّا ثَلَاثَ سِنِينَ ، وَابْنُ مَسْعُودٍ كَانَ بِالْكُوفَةِ ، وَلَا يَصِحُّ هَذَا عَنْ عُمَرَ . ¤ قُلْتُ : وَيَأْتِي بَابُ التَّثَبُّتِ عَنْ بَعْضِ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین

ابراہیم بن عبدالرحمن بن عوف بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ، سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کی طرف پیغام بھیجا اور فرمایا : آپ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے بکثرت احادیث کیوں روایت کرتے ہیں ؟ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان حضرات کو مدینہ منورہ میں روکے رکھا ، یہاں تک کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جام شہادت نوش کر لیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ ” منقطع “ روایت ہے ، ابراہیم نامی راوی بیس ہجری میں پیدا ہوئے تھے ، انہیں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی زندگی کے صرف تین سال ملے تھے اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کوفہ میں رہے ہیں ، تو یہ روایت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مستند طور پر منقول نہیں ہے ، میں یہ کہتا ہوں : بعض احادیث کے بارے میں تحقیق کرنے سے متعلق باب آگے آئے گا ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 666
درجۂ حدیث محدثین: منقطع
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الاوسط 3449»