حدیث نمبر: 664
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ قَالَ : جَلَسَ عُمَرُ مَجْلِسًا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَجْلِسُهُ ، تَمُرُّ عَلَيْهِ الْجَنَائِزُ . قَالَ : فَمَرُّوا بِجَنَازَةٍ فَأَثْنَوْا خَيْرًا ، فَقَالَ : وَجَبَتْ ، ثُمَّ مَرُّوا بِجَنَازَةٍ ، فَقَالُوا : هَذَا كَانَ أَكْذَبَ النَّاسِ ، فَقَالَ : إِنَّ أَكْذَبَ النَّاسِ أَكْذَهُمْ عَلَى اللَّهِ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ مَنْ كَذَبَ عَلَى رُوحِهِ فِي جَسَدِهِ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ الْوَلِيدِ الشَّنِّيُّ ، ضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ وَيَحْيَى الْقَطَّانُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ایسی جگہ تشریف فرما تھے ، جہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھا کرتے تھے ، اُس جگہ جنازے پاس سے گزرا کرتے تھے ، راوی بیان کرتے ہیں : لوگ ایک جنازہ لے کر گزرے ، لوگوں نے اس کی تعریف کی ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : واجب ہو گئی ، پھر لوگ ایک اور جنازہ لے کر گزرے ، تو لوگوں نے کہا: یہ سب سے بڑا جھوٹا تھا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : لوگوں میں سب سے بڑا جھوٹا وہ شخص ہے ، جو اللہ تعالیٰ کی طرف جھوٹی بات منسوب کرتا ہے اور پھر اس کے بعد وہ لوگ ہیں جو اپنے جسم میں موجود روح کے حوالے سے جھوٹ بولتے ہیں ( یعنی جھوٹا خواب بیان کرتے ہیں ) ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمر بن ولید شنی ہے ، جسے امام نسائی رحمہ اللہ اور یحیی القطان نے ضعیف قرار دیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 664
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى مسنده 54/1 اورده المؤلف فى زوائد المسند 230»