حدیث نمبر: 6632
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى صَلَاةَ الْغَدَاةِ ، ثُمَّ قَالَ : " هَاهُنَا أَحَدٌ مِنْ هُذَيْلٍ ؟ إِنَّ صَاحِبَكُمْ مَحْبُوسٌ عَلَى بَابِ الْجَنَّةِ - أَحْسَبُهُ قَالَ : بِدَيْنِهِ - " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ أَطْوَلَ مِنْهُ ، وَفِيهِ حِبَّانُ بْنُ عَلِيٍّ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ قَوْمٌ ، وَضَعَّفَهُ قَوْمٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز ادا کی پھر آپ نے ارشاد فرمایا : ” کیا یہاں ہذیل قبیلے سے تعلق رکھنے والا کوئی فرد موجود ہے ؟ تمہارے ساتھی کو جنت کے دروازے پر روک لیا گیا ہے ۔ “ راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” اس کے ذمہ قرض کی وجہ سے ( روکا گیا ہے ) “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں اس سے ذرا طویل روایت کے طور پر نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حبان بن علی ہے ، جسے کچھ لوگوں نے ثقہ قرار دیا ہے اور کچھ لوگوں نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6632
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1338) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12316 مطولا)»