کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: ادھار کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 6623
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا تُخِيفُوا أَنْفُسَكُمْ بَعْدَ أَمْنِهَا " . قَالُوا : وَمَا ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " الدَّيْنُ " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب تم امن کی حالت میں آ چکے ہو ، تو اس کے بعد اپنے آپ کو خوف کا شکار نہ کرو ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اُدھار “ ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6623
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (1739) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (328/17) اخرجه احمد فى المسند (146/4 و154)»
حدیث نمبر: 6624
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِأَصْحَابِهِ : " لَا تُخِيفُوا أَنْفُسَكُمْ " أَوْ قَالَ : " الْأَنْفُسَ " . فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَبِمَا نُخِيفُ أَنْفُسَنَا ؟ قَالَ : " الدَّيْنُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ بِإِسْنَادَيْنِ رِجَالُ أَحَدِهِمَا ثِقَاتٌ . ¤ وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَأَبُو يَعْلَى . ¤
محمد محی الدین
ان کے حوالے سے ہی یہ بات منقول ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا : تم اپنے آپ کو خوف کا شکار نہ کرو ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) اپنی جانوں کو خوف کا شکار نہ کرو ! عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! ہم اپنی جانوں کو کیسے خوف کا شکار کر سکتے ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا : اُدھار کے حوالے سے ۔ یہ روایت امام أحمد نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، جن دونوں میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6624
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 6625
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : تُوُفِّيَ رَجُلٌ فَغَسَّلْنَاهُ ، وَكَفَّنَّاهُ ، وَحَنَّطْنَاهُ ، ثُمَّ أَتَيْنَا بِهِ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي عَلَيْهِ فَخَطَا خُطْوَةً ، ثُمَّ قَالَ : " أَعَلَيْهِ دَيْنٌ ؟ " قُلْتُ : دِينَارَانِ . فَانْصَرَفَ فَتَحَمَّلَهُمَا أَبُو قَتَادَةَ ، فَأَتَيْنَاهُ ، فَقَالَ أَبُو قَتَادَةَ : الدِّينَارَانِ عَلَيَّ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " قَدْ أَوْفَى اللَّهُ حَقَّ الْغَرِيمِ وَبَرِئَ مِنْهَا الْمَيِّتُ ؟ " . قَالَ : نَعَمْ . فَصَلَّى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ بَعْدَ ذَلِكَ بِيَوْمٍ : " مَا فَعَلَ الدِّينَارَانِ ؟ " . قُلْتُ : إِنَّمَا مَاتَ أَمْسِ ! قَالَ : فَعَادَ إِلَيْهِ مِنَ الْغَدِ ، فَقَالَ : قَدْ قَضَيْتُهُمَا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْآنَ بَرَدَتْ عَلَيْهِ جِلْدَتُهُ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص کا انتقال ہوا ، ہم نے اسے غسل دیا اسے کفن دیا ، اسے خوشبو لگائی پھر اسے لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، تاکہ آپ اس کی نماز جنازہ ادا کریں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قدم اٹھایا پھر آپ نے دریافت کیا : کیا اس کے ذمہ قرض ہے ؟ میں نے عرض کی : دو دینار ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم واپس مڑ گئے سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کی ادائیگی اپنے ذمہ لی پھر ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : دو دیناروں کی ادائیگی میرے ذمہ ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ نے قرض خواہ کے حق کو ادا کروا دیا اور میت اس سے لاتعلق ہو گئی ، انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کی نماز جنازہ ادا کی ، اس کے ایک دن بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : دو دیناروں کے معاملے کا کیا بنا ؟ میں نے عرض کی : اس کا تو گزشتہ کل انتقال ہوا ہے ، راوی بیان کرتے ہیں : اگلے دن وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی : میں نے ان دونوں کو ادا کر دیا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اب اس شخص پر اس کی جلد ٹھنڈی ہوئی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابوداؤد نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6625
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (330/3)»
حدیث نمبر: 6626
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أُتِيَ بِجِنَازَةٍ ، فَقَامَ يُصَلِّي عَلَيْهَا ، فَقَالُوا : عَلَيْهِ دَيْنٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " انْطَلِقُوا بِصَاحِبِكُمْ ، فَصَلُّوا عَلَيْهِ " . فَقَالَ رَجُلٌ : عَلَيَّ دَيْنُهُ ، فَصَلِّ عَلَيْهِ . فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَصَلَّ عَلَيْهِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ فِي الْجَنَائِزِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک جنازہ لایا گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی نماز جنازہ ادا کرنے کے لئے اٹھے ، لوگوں نے بتایا اس کے ذمہ قرض ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اپنے ساتھی کو لے جاؤ اور اس کی نماز جنازہ ادا کر لو ، ایک شخص بولا: اس کا قرض میرے ذمہ ہے ، آپ اس کی نماز جنازہ ادا کیجئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور آپ نے اس کی نماز جنازہ ادا کی ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں اس سے پہلے جنائز سے متعلق باب میں اس نوعیت کی احادیث گزر چکی ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6626
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1333)»
حدیث نمبر: 6627
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : أَرَأَيْتَ إِنْ جَاهَدْتُ بِنَفْسِي وَمَالِي فَقُتِلْتُ صَابِرًا مُحْتَسِبًا مُقْبِلًا غَيْرَ مُدْبِرٍ أَدْخُلُ الْجَنَّةَ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " فَأَعَادَ ذَلِكَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا قَالَ : " نَعَمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ عَلَيْكَ دَيْنٌ لَيْسَ عِنْدَكَ وَفَاؤُهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَإِسْنَادُ أَحْمَدَ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور بولا: اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ اگر میں اپنی جان اور مال کے ہمراہ جہاد میں حصہ لیتا ہوں اور صبر کرنے والے کے طور پر ، ثواب کی امید رکھنے والے کے طور پر دشمن کی طرف رخ کر کے ، پیٹھ پھیرے بغیر رہتے ہوئے قتل ہو جاتا ہوں ، تو کیا میں جنت میں داخل ہو جاؤں گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! اس شخص نے دو یا تین مرتبہ اس بات کو دہرایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! بشرطیکہ تمہارے ذمہ کوئی ایسا قرض نہ ہو کہ جس کی ادائیگی کی کوئی صورت تمہارے پاس نہ ہو ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے امام أحمد کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6627
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1337) اخرجه احمد فى المسند (325/3 و 352 و373)»
حدیث نمبر: 6628
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَحْشٍ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَاذَا لِي إِنْ قَاتَلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَتَّى أُقْتَلَ ؟ قَالَ : " الْجَنَّةُ " فَلَمَّا وَلَّى قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِلَّا الدَّيْنَ ؛ سَارَّنِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ بِهِ آنِفًا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ أَبُو كَثِيرٍ ، وَهُوَ مَسْتُورٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا محمد بن جحش رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر میں اللہ کی راہ میں جہاد میں حصہ لیتے ہوئے قتل ہو جاؤں تو مجھے کیا ملے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جنت ، جب وہ شخص مڑ کر جانے لگا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : البتہ قرض کا معاملہ مختلف ہے ، ابھی جبرائیل نے سرگوشی میں مجھے یہ بات بتائی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوکثیر ہے اور وہ مستور ہے اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6628
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (247/19 248) اخرجه احمد فى المسند (350,140,139/4)»
حدیث نمبر: 6629
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَحْشٍ [ عَنْ أَبِيهِ ] : أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ؟ قَالَ : " الْجَنَّةُ " فَلَمَّا وَلَّى قَالَ : " الدَّيْنُ سَارَّنِي بِهِ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ آنِفًا " . ¤ قُلْتُ : لَهُ حَدِيثٌ رَوَاهُ النَّسَائِيَّ غَيْرُ هَذَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ أَبُو كَثِيرٍ ، وَهُوَ مَسْتُورٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
محمد بن عبداللہ بن جحش ، اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر میں اللہ کی راہ میں مارا جاؤں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جنت ( ملے گی ) جب وہ شخص مڑ گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : البتہ قرض کا معاملہ مختلف ہے ، ابھی جبرائیل نے مجھے سرگوشی میں یہ بات بتائی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان کے حوالے سے ایک حدیث ہے ، جسے امام نسائی رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے اور وہ اس روایت کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوکثیر ہے اور وہ مستور ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6629
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
حدیث نمبر: 6630
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَحْشٍ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَوْ أَنَّ رَجُلًا قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، ثُمَّ أُحْيِيَ ، ثُمَّ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ [ ثُمَّ أُحْيِيَ ] لَمْ يَدْخُلِ الْجَنَّةَ حَتَّى يُقْضَى عَنْهُ دَيْنُهُ لَيْسَ ثَمَّةَ ذَهَبٌ وَلَا فِضَّةٌ ، إِنَّمَا هِيَ الْحَسَنَاتُ وَالسَّيِّئَاتُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ رَوْحُ بْنُ صَلَاحٍ ؛ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَالْحَاكِمُ ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ عَدِيٍّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا محمد بن عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اگر کوئی شخص اللہ کی راہ میں قتل ہو جائے اور پھر اسے زندہ کر دیا جائے ، پھر وہ اللہ کی راہ میں قتل ہو جائے ، پھر اسے زندہ کر دیا جائے تو وہ جنت میں اس وقت تک داخل نہیں ہو گا ، جب تک اس کی طرف سے اس کا قرض ادا نہیں کر دیا جاتا ، کیونکہ وہاں سونا اور چاندی نہیں ہو گا ، وہاں نیکیاں اور برائیاں ہوں گی“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی روح بن صلاح ہے ، جسے ابن حبان نے اور امام حاکم رحمہ اللہ نے ثقہ قرار دیا ہے ، جبکہ ابن عدی نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6630
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (272) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (247/19)»
حدیث نمبر: 6631
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَخَطَبَ ، فَذَكَرَ الْإِيمَانَ بِاللَّهِ ، وَالْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ مِنْ أَفْضَلِ [ الْأَعْمَالِ ] عِنْدَ اللَّهِ ، قَالَ : فَقَامَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ [ وَأَنَا صَابِرٌ مُحْتَسِبٌ ] مُقْبِلًا غَيْرَ مُدْبِرٍ كَفَّرَ اللَّهُ عَنِّي خَطَايَايَ ؟ قَالَ : ( نَعَمْ ) ، [ قَالَ :فَكَيْفَ قُلْتَ ؟ قَالَ : فَرَدَّ عَلَيْهِ الْقَوْلَ كَمَا قَالَ ، قَالَ : ( نَعَمْ ) ، قَالَ : فَكَيْفَ قُلْتَ ؟ قَالَ :فَرَدَّ عَلَيْهِ الْقَوْلَ أَيْضًا قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ صَابِرًا مُحْتَسِبًا مُقْبِلًا غَيْرَ مُدْبِرٍ ،كَفَّرَ اللَّهُ خَطَايَايَ ؟ قَالَ : (نَعَمْ ) ] إِلَّا الدَّيْنَ ، فَإِنَّ جِبْرِيلَ سَارَّنِي بِذَلِكَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے آپ نے خطبہ دیا آپ نے اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنے اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کے ، اللہ کی بارگاہ میں سب سے زیادہ عمل ہونے کا تذکرہ کیا ، راوی بیان کرتے ہیں : تو ایک شخص کھڑا ہوا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ کہ اگر میں اللہ کی راہ میں مارا جاتا ہوں اور میں صبر کرنے والا اور ثواب کی امید رکھنے والا ہوتا ہوں ، دشمن کی طرف رخ کیے ہوتا ہوں ، پیٹھ نہیں پھیری ہوتی ، تو کیا للہ تعالی میرے گناہ ختم کر دے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم نے کیا کہا: ہے ؟ اس نے اپنی بات دہرا دی جس طرح پہلے کہی تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم نے کیا کہا: ہے ؟ اس نے دوبارہ اپنی بات دہرا دی اور عرض کی : یا رسول اللہ ! اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ اگر میں صبر کرنے والے کے طور پر ثواب کی امید رکھتے ہوئے دشمن کی طرف رخ کر کے ، پیٹھ نہ پھیر کر ، اللہ کی راہ میں قتل ہو جاتا ہوں ، تو کیا اللہ تعالیٰ میرے گناہ ختم کر دے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! البتہ قرض کا معاملہ مختلف ہے ، ابھی جبرائیل نے سرگوشی میں مجھے اس بارے میں بتایا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6631
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (8061)»
حدیث نمبر: 6632
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى صَلَاةَ الْغَدَاةِ ، ثُمَّ قَالَ : " هَاهُنَا أَحَدٌ مِنْ هُذَيْلٍ ؟ إِنَّ صَاحِبَكُمْ مَحْبُوسٌ عَلَى بَابِ الْجَنَّةِ - أَحْسَبُهُ قَالَ : بِدَيْنِهِ - " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ أَطْوَلَ مِنْهُ ، وَفِيهِ حِبَّانُ بْنُ عَلِيٍّ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ قَوْمٌ ، وَضَعَّفَهُ قَوْمٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز ادا کی پھر آپ نے ارشاد فرمایا : ” کیا یہاں ہذیل قبیلے سے تعلق رکھنے والا کوئی فرد موجود ہے ؟ تمہارے ساتھی کو جنت کے دروازے پر روک لیا گیا ہے ۔ “ راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” اس کے ذمہ قرض کی وجہ سے ( روکا گیا ہے ) “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں اس سے ذرا طویل روایت کے طور پر نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حبان بن علی ہے ، جسے کچھ لوگوں نے ثقہ قرار دیا ہے اور کچھ لوگوں نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6632
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1338) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12316 مطولا)»
حدیث نمبر: 6633
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : أَتَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، رَجُلٌ قَاتَلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ مُحْتَسِبًا حَتَّى يُقْتَلَ أَفِي الْجَنَّةِ هُوَ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " ، فَلَمَّا قَفَّى دَعَاهُ قَالَ : " أَتَانِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ ، فَقَالَ : إِنْ لَمْ يَكُنْ عَلَيْهِ دَيْنٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ایک شخص اللہ کی راہ میں ثواب کی امید رکھتے ہوئے جنگ میں حصہ لیتا ہے ، یہاں تک کہ مارا جاتا ہے تو کیا وہ جنت میں جائے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! جب وہ شخص مڑ کر واپس چلا گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلوایا اور ارشاد فرمایا : جبرائیل میرے پاس آئے اور انہوں نے بتایا کہ شرط یہ ہے کہ اس کے ذمہ کوئی قرض نہ ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ ثقہ ہے لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6633
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11197)»
حدیث نمبر: 6634
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَوَّلُ مَا يُهْرَاقُ دَمُ الشَّهِيدِ يُغْفَرُ لَهُ ذَنْبُهُ كُلُّهُ إِلَّا الدَّيْنَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” شہید کے خون کے بہنے کا جیسے ہی آغاز ہوتا ہے ، تو اس کے گناہوں کی مغفرت ہو جاتی ہے البتہ قرض کا معاملہ مختلف ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6634
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5552)»
حدیث نمبر: 6635
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْغَفْلَةُ فِي ثَلَاثٍ : عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ ، وَحِينَ يُصَلَّى الصُّبْحُ إِلَى أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ ، وَغَفْلَةُ الرَّجُلِ عَنْ نَفْسِهِ حَتَّى يَرْكَبَهُ الدَّيْنُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ حُدَيْجُ بْنُ صَوْمَى ، وَهُوَ مَسْتُورٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” غفلت تین صورتوں میں ہوتی ہے اللہ کے ذکر کے حوالے سے اور اس وقت جب آدمی نے صبح کی نماز ادا کر لی ہو اس وقت سے لے کر سورج طلوع ہونے تک ، اور آدمی کا اپنی ذات کے حوالے سے غفلت کا شکار ہونا یہاں تک کہ اس پر قرض سوار ہو جائے ( یعنی اس کے ذمہ قرض لازم ہو جائے ) “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حدیج بن صومی ہے اور وہ مستور ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6635
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 6636
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَاةً ، ثُمَّ انْصَرَفَ ، فَقَالَ : " هَاهُنَا مِنْ بَنِي فُلَانٍ أَحَدٌ ؟ " . فَلَمْ يُجِبْهُ أَحَدٌ . فَقَالَ : " هَاهُنَا مِنْ بَنِي فُلَانٍ أَحَدٌ ؟ " ثُمَّ أَعَادَهَا الثَّالِثَةَ فَقَالَ رَجُلٌ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " فَمَا مَنَعَكَ أَنْ تَقُومَ ؟ " . قَالَ : فَرِقْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ يَكُونَ حَدَثَ ! قَالَ : " لَا ، إِنَّ صَاحِبَكُمْ فُلَانًا قَدْ حُبِسَ بِبَابِ الْجَنَّةِ مِنْ أَجْلِ دَيْنِهِ " . قَالَ الرَّجُلُ : عَلَيَّ دَيْنُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَغْرَاءَ ؛ وَثَّقَهُ أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، وَابْنُ حِبَّانَ ، وَضَعَّفَهُ آخَرُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کی اور نماز پڑھ کر فارغ ہوئے ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : یہاں بنوفلاں سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص موجود ہے ؟ کسی نے آپ کو جواب نہیں دیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : یہاں بنو فلاں سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص موجود ہے ؟ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری مرتبہ اپنی بات کو دہرایا تو ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ میں ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم پہلے کیوں نہیں کھڑے ہوئے ؟ اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں کوئی نیا حکم نہ سامنے آ جائے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! تمہارا ساتھی فلاں شخص اسے اس کے ذمہ لازم قرض کی وجہ سے جنت کے دروازے پر روک لیا گیا ہے ، اُس شخص نے کہا: یا رسول اللہ ! اس کا قرض میرے ذمہ ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن مغراء ہے ، جسے ابوخالد احمر اور ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور دیگر لوگوں نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6636
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (139)»
حدیث نمبر: 6637
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ الْأَطْوَلِ أَنَّ أَبَاهُ مَاتَ وَتَرَكَ ثَلَاثَمِائَةِ دِرْهَمٍ وَعِيَالًا وَدَيْنًا فَأَرَدْتُ أَنْ أُنْفِقَ عَلَى عِيَالِهِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ أَبَاكَ مَحْبُوسٌ بِدَيْنِهِ فَاقْضِ عَنْهُ " . قُلْتُ : بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ قَضَيْتُ مَا خَلَا امْرَأَةً ادَّعَتْ دِينَارَيْنِ ، وَلَيْسَ لَهَا بَيِّنَةٌ . قَالَ : " أَعْطِهَا ، فَإِنَّهَا صَادِقَةٌ " . فَأَعْطَيْتُهَا . ¤ قُلْتُ : رَوَى ابْنُ مَاجَهْ الْقِصَّةَ فِي أَخِيهِ وَهُنَا فِي أَبِيهِ . ¤
محمد محی الدین
سعد بن اطول بیان کرتے ہیں : اُن کے والد کا انتقال ہو گیا ، انہوں نے تین سو درہم اور عیال اور قرض پسماندگان میں چھوڑے ، میں نے یہ ارادہ کیا کہ میں ( وہ رقم ) اُن کے عیال پر خرچ کروں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہارے باپ کو اس کے قرض کی وجہ سے روک لیا گیا ہے تم اس کی طرف سے قرض کو ادا کر دو ! میں نے عرض کی : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں یا رسول اللہ ! میں نے سارا قرض ادا کر دیا ہے ، البتہ ایک عورت کا معاملہ مختلف ہے ، جس نے دو دیناروں کا دعویٰ کیا ہے ، لیکن اس کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ اُسے ادا کر دو کیونکہ وہ سچ بول رہی ہے ، راوی کہتے ہیں : تو میں نے اس خاتون کو ادائیگی کر دی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے یہ پورا واقعہ کیا ہے کہ وہ ان کے بھائی کے بارے میں ہے اور یہاں یہ ذکر ہوا ہے کہ یہ اُن کے والد کے بارے میں ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6637
درجۂ حدیث محدثین: مضطرب
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلي فى المسند (1512) اخرجه احمد فى المسند (136/4)»
حدیث نمبر: 6638
وَعَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ بِمِثْلِهِ . ¤ رَوَاهُ كُلَّهُ ، وَالَّذِي قَبْلَهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ عَبْدُ الْمَلِكِ أَبُو جَعْفَرٍ ، وَقَدْ ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ . ¤
محمد محی الدین
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ، ایک صاحب کے حوالے سے اس کی مانند روایت منقول ہے ۔ یہ پوری روایت اور اس سے پہلے والی روایت ، امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالملک ابوجعفر ہے ، جس کا ذکر ابن حبان نے کتاب الثقات میں کیا ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6638
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلي فى المسند (1513) اخرجه احمد فى المسند (715)»
حدیث نمبر: 6639
وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ : " هَاهُنَا مِنْ بَنِي فُلَانٍ أَحَدٌ ؟ " فَلَمْ يُجِبْهُ أَحَدٌ . ثُمَّ قَالَ : " هَاهُنَا أَحَدٌ مِنْ بَنِي فُلَانٍ ؟ " فَلَمْ يُجْبِهُ أَحَدٌ . ثُمَّ قَالَ : " هَاهُنَا مِنْ بَنِي فُلَانٍ أَحَدٌ ؟ " فَقَالَ رَجُلٌ : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَاهُنَا فُلَانٌ ، فَقَالَ : " إِنَّ صَاحِبَكُمْ مُحْتَبَسٌ بِبَابِ الْجَنَّةِ بِدَيْنٍ عَلَيْهِ " . فَقَالَ رَجُلٌ : عَلَيَّ دَيْنُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَسْلَمُ بْنُ سَهْلٍ الْوَاسِطِيُّ ؛ قَالَ الذَّهَبِيُّ : لَيَّنَهُ الدَّارَقُطْنِيُّ ، وَهَذِهِ عِبَارَةٌ سَهْلَةٌ فِي التَّضْعِيفِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کی ، جب آپ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے ، تو آپ نے دریافت کیا : کیا یہاں بنو فلاں سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص موجود ہے ؟ تو کسی نے آپ کو جواب نہیں دیا ، پھر آپ نے دریافت کیا : کیا یہاں بنو فلاں سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص موجود ہے ؟ تو کسی نے آپ کو جواب نہیں دیا ، پھر آپ نے دریافت کیا : کیا یہاں بنوفلاں سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص موجود ہے ؟ تو ایک صاحب بولے : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! یہاں فلاں شخص موجود ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہارے ایک ساتھی کو جنت کے دروازے پر اس کے ذمہ لازم قرض کی وجہ سے روک لیا گیا ہے ، ایک شخص نے کہا: یا رسول اللہ ! اس کا قرض میرے ذمہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس روایت کی سند میں ایک راوی اسلم بن سہل واسطی ہے ، امام ذہبی کہتے ہیں : امام دارقطنی رحمہ اللہ نے اسے ” لین“ قرار دیا ہے اور کسی کو ضعیف قرار دینے کے بارے میں یہ عبارت ہلکی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6639
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6750 الى 6756)»
حدیث نمبر: 6640
وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " صَاحِبُ الدَّيْنِ مَأْسُورٌ بِدَيْنِهِ يَشْكُو إِلَى اللَّهِ الْوَحْدَةَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ ؛ وَثَّقَهُ عَفَّانُ ، وَابْنُ حِبَّانَ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” مقروض شخص کو ، اُس کے قرض کے عوض میں پابند رکھا جائے گا اور وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اکیلے ہونے کی شکایت کرے گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مبارک بن فضالہ ہے ، جسے عفان اور ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6640
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط“ (897)»
حدیث نمبر: 6641
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا هَمَّ إِلَّا هَمُّ الدَّيْنِ ، وَلَا وَجَعَ إِلَّا وَجَعُ الْعَيْنِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سَهْلُ بْنُ قَرِينٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” پریشانی صرف قرض کی پریشانی ہوتی ہے ، اور تکلیف صرف آنکھ کی ہی تکلیف ہوتی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سہل بن قرین ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6641
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (854)»