مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الدَّيْنِ . باب: ادھار کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَخَطَبَ ، فَذَكَرَ الْإِيمَانَ بِاللَّهِ ، وَالْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ مِنْ أَفْضَلِ [ الْأَعْمَالِ ] عِنْدَ اللَّهِ ، قَالَ : فَقَامَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ [ وَأَنَا صَابِرٌ مُحْتَسِبٌ ] مُقْبِلًا غَيْرَ مُدْبِرٍ كَفَّرَ اللَّهُ عَنِّي خَطَايَايَ ؟ قَالَ : ( نَعَمْ ) ، [ قَالَ :فَكَيْفَ قُلْتَ ؟ قَالَ : فَرَدَّ عَلَيْهِ الْقَوْلَ كَمَا قَالَ ، قَالَ : ( نَعَمْ ) ، قَالَ : فَكَيْفَ قُلْتَ ؟ قَالَ :فَرَدَّ عَلَيْهِ الْقَوْلَ أَيْضًا قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ صَابِرًا مُحْتَسِبًا مُقْبِلًا غَيْرَ مُدْبِرٍ ،كَفَّرَ اللَّهُ خَطَايَايَ ؟ قَالَ : (نَعَمْ ) ] إِلَّا الدَّيْنَ ، فَإِنَّ جِبْرِيلَ سَارَّنِي بِذَلِكَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے آپ نے خطبہ دیا آپ نے اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنے اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کے ، اللہ کی بارگاہ میں سب سے زیادہ عمل ہونے کا تذکرہ کیا ، راوی بیان کرتے ہیں : تو ایک شخص کھڑا ہوا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ کہ اگر میں اللہ کی راہ میں مارا جاتا ہوں اور میں صبر کرنے والا اور ثواب کی امید رکھنے والا ہوتا ہوں ، دشمن کی طرف رخ کیے ہوتا ہوں ، پیٹھ نہیں پھیری ہوتی ، تو کیا للہ تعالی میرے گناہ ختم کر دے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم نے کیا کہا: ہے ؟ اس نے اپنی بات دہرا دی جس طرح پہلے کہی تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم نے کیا کہا: ہے ؟ اس نے دوبارہ اپنی بات دہرا دی اور عرض کی : یا رسول اللہ ! اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ اگر میں صبر کرنے والے کے طور پر ثواب کی امید رکھتے ہوئے دشمن کی طرف رخ کر کے ، پیٹھ نہ پھیر کر ، اللہ کی راہ میں قتل ہو جاتا ہوں ، تو کیا اللہ تعالیٰ میرے گناہ ختم کر دے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! البتہ قرض کا معاملہ مختلف ہے ، ابھی جبرائیل نے سرگوشی میں مجھے اس بارے میں بتایا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔