حدیث نمبر: 6633
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : أَتَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، رَجُلٌ قَاتَلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ مُحْتَسِبًا حَتَّى يُقْتَلَ أَفِي الْجَنَّةِ هُوَ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " ، فَلَمَّا قَفَّى دَعَاهُ قَالَ : " أَتَانِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ ، فَقَالَ : إِنْ لَمْ يَكُنْ عَلَيْهِ دَيْنٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ایک شخص اللہ کی راہ میں ثواب کی امید رکھتے ہوئے جنگ میں حصہ لیتا ہے ، یہاں تک کہ مارا جاتا ہے تو کیا وہ جنت میں جائے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! جب وہ شخص مڑ کر واپس چلا گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلوایا اور ارشاد فرمایا : جبرائیل میرے پاس آئے اور انہوں نے بتایا کہ شرط یہ ہے کہ اس کے ذمہ کوئی قرض نہ ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ ثقہ ہے لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6633
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11197)»