مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الدَّيْنِ . باب: ادھار کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 6628
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَحْشٍ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَاذَا لِي إِنْ قَاتَلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَتَّى أُقْتَلَ ؟ قَالَ : " الْجَنَّةُ " فَلَمَّا وَلَّى قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِلَّا الدَّيْنَ ؛ سَارَّنِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ بِهِ آنِفًا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ أَبُو كَثِيرٍ ، وَهُوَ مَسْتُورٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ مُوَثَّقُونَ . ¤محمد محی الدین
سیدنا محمد بن جحش رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر میں اللہ کی راہ میں جہاد میں حصہ لیتے ہوئے قتل ہو جاؤں تو مجھے کیا ملے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جنت ، جب وہ شخص مڑ کر جانے لگا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : البتہ قرض کا معاملہ مختلف ہے ، ابھی جبرائیل نے سرگوشی میں مجھے یہ بات بتائی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوکثیر ہے اور وہ مستور ہے اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔