مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الدَّيْنِ . باب: ادھار کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَحْشٍ [ عَنْ أَبِيهِ ] : أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ؟ قَالَ : " الْجَنَّةُ " فَلَمَّا وَلَّى قَالَ : " الدَّيْنُ سَارَّنِي بِهِ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ آنِفًا " . ¤ قُلْتُ : لَهُ حَدِيثٌ رَوَاهُ النَّسَائِيَّ غَيْرُ هَذَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ أَبُو كَثِيرٍ ، وَهُوَ مَسْتُورٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤محمد بن عبداللہ بن جحش ، اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر میں اللہ کی راہ میں مارا جاؤں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جنت ( ملے گی ) جب وہ شخص مڑ گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : البتہ قرض کا معاملہ مختلف ہے ، ابھی جبرائیل نے مجھے سرگوشی میں یہ بات بتائی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان کے حوالے سے ایک حدیث ہے ، جسے امام نسائی رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے اور وہ اس روایت کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوکثیر ہے اور وہ مستور ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔