حدیث نمبر: 6627
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : أَرَأَيْتَ إِنْ جَاهَدْتُ بِنَفْسِي وَمَالِي فَقُتِلْتُ صَابِرًا مُحْتَسِبًا مُقْبِلًا غَيْرَ مُدْبِرٍ أَدْخُلُ الْجَنَّةَ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " فَأَعَادَ ذَلِكَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا قَالَ : " نَعَمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ عَلَيْكَ دَيْنٌ لَيْسَ عِنْدَكَ وَفَاؤُهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَإِسْنَادُ أَحْمَدَ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور بولا: اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ اگر میں اپنی جان اور مال کے ہمراہ جہاد میں حصہ لیتا ہوں اور صبر کرنے والے کے طور پر ، ثواب کی امید رکھنے والے کے طور پر دشمن کی طرف رخ کر کے ، پیٹھ پھیرے بغیر رہتے ہوئے قتل ہو جاتا ہوں ، تو کیا میں جنت میں داخل ہو جاؤں گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! اس شخص نے دو یا تین مرتبہ اس بات کو دہرایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! بشرطیکہ تمہارے ذمہ کوئی ایسا قرض نہ ہو کہ جس کی ادائیگی کی کوئی صورت تمہارے پاس نہ ہو ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے امام أحمد کی سند حسن ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6627
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1337) اخرجه احمد فى المسند (325/3 و 352 و373)»