حدیث نمبر: 6599
وَعَنِ ابْنِ شِهَابٍ فِي فَتْحِ خَيْبَرَ قَالَ : وَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَوَاحَةَ لِيُقَاسِمَ الْيَهُودَ ثَمَرَهَا ، فَلَمَّا قَدِمَ عَلَيْهِمْ جَعَلُوا يُهْدُونَ لَهُ مِنَ الطَّعَامِ ، وَيُكَلِّمُونَهُ ، وَجَعَلُوا لَهُ حُلِيًّا مِنْ حُلِيِّ نِسَائِهِمْ ، فَقَالُوا : هَذَا لَكَ وَتَخَفَّفْ عَنَّا ، وَتَجَاوَزْ ، قَالَ ابْنُ رَوَاحَةَ : يَا مَعْشَرَ يَهُودَ ، إِنَّكُمْ وَاللَّهِ لَأَبْغَضُ النَّاسِ إِلَيَّ ، وَإِنَّمَا بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَدْلًا بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُ ، وَلَا أَرَبَ لِي فِي دُنْيَاكُمْ وَلَنْ أَحِيفَ عَلَيْكُمْ ، وَإِنَّمَا عَرَضْتُمْ عَلَيَّ السُّحْتَ أَنَا لَا آكُلُهُ . فَخَرَصَ النَّخْلَ فَلَمَّا أَقَامَ الْخَرْصَ خَيَّرَهُمْ فَقَالَ : إِنْ شِئْتُمْ ضَمِنْتُ لَكُمْ نَصِيبَكُمْ ، وَإِنْ شِئْتُمْ ضَمِنْتُمْ لَنَا نَصِيبَنَا وَقُمْتُمْ عَلَيْهِ . فَاخْتَارُوا أَنْ يَضْمَنُوا وَيَقُومُوا عَلَيْهِ قَالُوا : يَا ابْنَ رَوَاحَةَ ، هَذَا الَّذِي تَعْمَلُونَ بِهِ تَقُومُ بِهِ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ ، وَإِنَّمَا يَقُومَانِ بِالْحَقِّ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مُرْسَلًا ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

ابن شہاب ، فتح خیبر کے بارے میں یہ بات بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو بھیجا ، تاکہ وہاں کے پھل یہودیوں کے درمیان تقسیم کر دیں ، جب سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ ان لوگوں کے پاس آئے ، تو ان لوگوں نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کو اناج تحفے کے طور پر دیا اور ان کے ساتھ بات چیت کرنے لگے ، انہوں نے خواتین کے کچھ زیور بھی انہیں دینا چاہے ، ان لوگوں نے کہا: یہ آپ کے لئے ہیں اور آپ ہمارے ساتھ تخفیف کر دیں اور درگزر سے کام لیں ، سیدنا ابن رواحہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے یہودیوں کے گروہ ! اللہ کی قسم ! تم لوگ میرے نزدیک سب لوگوں سے زیادہ ناپسندیدہ ہو ، اللہ کے رسول نے مجھے تمہارے اور اپنے درمیان انصاف کے مطابق فیصلہ کرنے والے کے طور پر بھیجا ہے ، مجھے تمہاری دنیا کے ساتھ کوئی دلچپسی نہیں ہے اور میں تمہارے ساتھ کوئی زیادتی بھی نہیں کروں گا ، تم نے مجھے حرام کی پیشکش کی ہے ، میں اسے نہیں کھاؤں گا ، پھر انہوں نے کھجوروں کی پیدوار کا اندازہ لگایا ، جب وہ پیدوار کا اندازہ لگا کر فارغ ہوئے تو انہوں نے ان لوگوں کو اختیار دیا اور فرمایا : اگر تم چاہو ، تو میں تمہارے لئے تمہارے حصے کا ضامن بن جاتا ہوں اور اگر تم چاہو ، تو تم ہمارے لئے ہمارے حصے کے ضامن بن جاؤ اور باقی تم خود سنبھال لو ، تو ان لوگوں نے اس بات کو اختیار کیا کہ وہ لوگ ضامن بن جاتے ہیں اور اس کی دیکھ بھال کرتے رہیں گے ، ان لوگوں نے کہا: اے ابن رواحہ ! یہ جو آپ لوگ عمل کرتے ہیں ، اسی کی وجہ سے آسمان اور زمین قائم ہیں اور یہ دونوں حق کی وجہ سے قائم ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں ” مرسل “ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6599
درجۂ حدیث محدثین: إسناده مرسل