❮
❯
حدیث نمبر: 6598
وَعَنْ عُرْوَةَ قَالَ : لَمَّا فَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَيْبَرَ بَعَثَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَوَاحَةَ لِيُقَاسِمَ الْيَهُودَ ، فَلَمَّا قَدِمَ عَلَيْهِمْ جَعَلُوا يُهْدُونَ لَهُ مِنَ الطَّعَامِ ، فَكَرِهَ أَنْ يُصِيبَ مِنْهُمْ شَيْئًا ، وَقَالَ : إِنَّمَا بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَدْلًا بَيْنَهُ وَبَيْنَكُمْ فَلَا أَرَبَ لِي فِي هَدِيَّتِكُمْ . فَخَرَصَ النَّخْلَ ، فَلَمَّا أَقَامَ الْخَرْصَ خَيَّرَهُمْ عَبْدُ اللَّهِ فَقَالَ : إِنْ شِئْتُمْ ضَمِنْتُ لَكُمْ نَصِيبَكُمْ وَقُمْتُمْ عَلَيْهِ ، وَإِنْ شِئْتُمْ ضَمِنْتُمْ لَنَا نَصِيبَنَا وَقُمْتُمْ عَلَيْهِ . فَاخْتَارُوا أَنْ يَضْمَنُوا وَيَقُومُوا عَلَيْهَا ، وَقَالُوا : يَا ابْنَ رَوَاحَةَ ، هَذَا الَّذِي تَعْرِضُونَ عَلَيْنَا وَتَعْمَلُونَ بِهِ الْيَوْمَ تَقُومُ بِهِ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ ، وَإِنَّمَا يَقُومَانِ بِالْحَقِّ . وَكَانَتْ خَيْبَرُ لِمَنْ شَهِدَ الْحُدَيْبِيَةَ لَمْ يُشْرِكْهُمْ فِيهَا أَحَدٌ ، وَلَمْ يَتَخَلَّفْ عَنْهَا أَحَدٌ مِنْهُمْ ، وَلَمْ يَشْهَدْهَا أَحَدٌ غَيْرُهُمْ ، وَلَمْ يَأْذَنْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِأَحَدٍ تَخَلَّفَ عَنْ مَخْرَجِهِ إِلَى الْحُدَيْبِيَةِ فِي شُهُودِ خَيْبَرَ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ هَكَذَا مُرْسَلًا ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ .
محمد محی الدین

عروہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر فتح کیا ، تو آپ نے سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو بھیجا ، تاکہ وہ یہودیوں کے ساتھ حصے طے کر لیں ، جب سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ ان لوگوں کے پاس آئے ، تو انہوں نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کو اناج تحفے کے طور پر دیا ، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کوئی بھی چیز لینے کو ناپسندیدہ قرار دیا اور یہ فرمایا : اللہ کے رسول نے مجھے اپنے اور تمہارے درمیان عدل کے مطابق فیصلہ کرنے والے کے طور پر بھیجا ہے ، تو تمہارے ہدیہ میں مجھے کوئی دلچپسی نہیں ہے ، پھر انہوں نے ان کی کھجوروں کا اندازہ لگایا جب ان کا اندازہ مکمل ہو گیا تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے انہیں اختیار دیا اور فرمایا : اگر تم چاہو ، تو میں تمہیں تمہارا حصہ ادا کر دیتا ہوں ، تم اس پر قائم رہو ، اگر تم چاہو ، تو تم ہمیں ہمارا حصہ ادا کر دو اور تم اس پر قائم رہو ، تو انہوں نے اس بات کو اختیار کیا کہ وہ حصہ ادا کر دیں گے اور اس پر قائم رہیں گے ، ان لوگوں نے کہا: اے ابن رواحہ ! یہ جو آپ نے ہمیں پیشکش کی ہے اور جس کے مطابق آپ عمل کر رہے ہیں ، اسی کی وجہ سے آسمان اور زمین قائم ہیں ، یہ دونوں حق کی وجہ سے قائم ہیں ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) خیبر کے حصے ہر اس شخص کو ملے تھے ، جو حدیبیہ میں شریک ہوا تھا ، اس میں کوئی ایسا شخص شریک نہیں ہوا تھا ، جو حدیبیہ میں شریک نہ ہوا ہو ، اور ان میں سے کوئی بھی اس سے پیچھے نہیں رہا تھا ، اور اُن لوگوں کے علاوہ کوئی اور اس میں شریک نہیں ہوا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی بھی ایسے شخص کو خیبر میں شریک ہونے کی اجازت نہیں دی تھی ، جو آپ کے ساتھ حدیبیہ کی طرف نکلنے سے پیچھے رہ گیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اسی طرح ” مرسل “ روایت کے طور پر نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ حسن الحدیث ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6598
درجۂ حدیث محدثین: إسناده مرسل