حدیث نمبر: 6600
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ : عَنْ مُقَاضَاةِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَهُودَ خَيْبَرَ عَلَى أَنَّ لَنَا نِصْفَ التَّمْرِ ، وَلَكُمْ نِصْفَهُ ، وَتَكْفُونَا الْعَمَلَ حَتَّى إِذَا طَابَ ثَمَرُهُمْ أَتَوُا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالُوا لَهُ : إِنَّ تَمْرَنَا قَدْ طَابَ فَابْعَثْ خَارِصًا يَخْرُصُ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ . فَبَعَثَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَوَاحَةَ فَلَمَّا طَافَ فِي نَخْلِهِمْ فَنَظَرَ إِلَيْهِ قَالَ : وَاللَّهِ مَا أَعْلَمُ مِنْ خَلْقِ اللَّهِ أَحَدًا أَعْظَمَ فِرْيَةً عِنْدَ اللَّهِ ، وَعَدَاءً لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْكُمْ ، وَاللَّهِ مَا خَلَقَ اللَّهُ أَحَدًا أَبْغَضَ إِلَيَّ مِنْكُمْ ، وَاللَّهِ مَا يَحْمِلُنِي ذَلِكَ عَلَى أَنْ أَحِيفَ عَلَيْكُمْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ ، وَأَنَا أَعْلَمُهَا . قَالَ : ثُمَّ خَرَصَهَا جَمِيعًا : الَّذِي لَهُ وَالَّذِي لِلْيَهُودِ ثَمَانِينَ أَلْفِ وَسْقٍ . فَقَالَتِ الْيَهُودُ : خَرَبْتَنَا . فَقَالَ ابْنُ رَوَاحَةَ : إِنْ شِئْتُمْ فَأَعْطُونَا أَرْبَعِينَ أَلْفَ وَسْقٍ وَنُسَلِّمُكُمُ الثَّمَرَةَ ، وَإِنْ شِئْتُمْ أَعْطَيْنَاكُمْ أَرْبَعِينَ أَلْفَ وَسْقٍ وَتَخْرُصُونَ عَنَّا . فَنَظَرَ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ ، ثُمَّ قَالُوا : بِهَذَا قَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ وَبِهَذَا يَغْلِبُونَكُمْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مُرْسَلًا ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

عبداللہ بن عبید بن عمیر ، خیبر کے یہودیوں کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے معاہدے کے بارے میں بیان کرتے ہوئے ، یہ بیان کرتے ہیں : آپ نے ارشاد فرمایا : کھجوروں کی پیدوار کا نصف ہمیں ملے گا اور نصف تمہیں ملے گا اور کام کاج ہماری جگہ تم نے کرنا ہے ، یہاں تک کہ جب وہاں کا پھل تیار ہو گیا ، تو وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گزارش کی کہ ہماری کھجوریں تیار ہو چکی ہیں ، آپ کسی اندازہ لگانے والے کو بھیجیں ، جو ہمارے اور آپ کے درمیان ( پیدوار ) کا اندازہ لگا لے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو بھیجا ، جب انہوں نے وہاں کے کھجوروں کے درختوں کا چکر لگایا اور ان کا جائزہ لیا تو بولے : اللہ کی قسم ! میرے علم کے مطابق ، اللہ کی مخلوق میں سے تم سے زیادہ اللہ تعالی کی طرف جھوٹی بات منسوب کرنے والا اور اللہ کے رسول کا دشمن ، اور کوئی نہیں ہے ، اور اللہ کی قسم ! اللہ تعالیٰ نے کوئی ایسی مخلوق پیدا نہیں کی ہے ، جو میرے نزدیک تم سے زیادہ ناپسندیدہ ہو ، اللہ کی قسم ! لیکن اس بات نے بھی مجھے اس بات پر مجبور نہیں کیا کہ میں تمہارے ساتھ ذرے کے وزن جتنی زیادتی کروں ، اور میں اس بارے میں علم رکھتا ہوؤں ، راوی کہتے ہیں : پھر انہوں نے تمام پیداوار کا اندازہ لگایا ، جو ان کے اور یہودیوں کے حصے میں آنی تھی ، تو وہ اسی ہزار وسق بنتے تھے ، یہودیوں نے کہا: آپ نے ہمارے ساتھ زیادتی کی ہے ، سیدنا ابن رواحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر تم چاہو ، تو ہمیں چالیس ہزار وسق دے دو ، ہم پھل تمہارے حوالے کر دیں گے اور اگر تم چاہو ، تو ہم تمہیں چالیس ہزار وسق دے دیتے ہیں ، اور تم ہم سے الگ ہو جانا ، ان لوگوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور پھر بولے : اسی کی وجہ سے آسمان اور زمین قائم ہیں ، اسی کی وجہ سے یہ لوگ تم لوگوں پر غالب آئے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں ” مرسل “ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6600
درجۂ حدیث محدثین: إسناده مرسل