مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الرِّبَا . باب: سود کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ كَعْبٍ - يَعْنِي الْأَحْبَارَ - قَالَ : لَأَنْ أَزْنِيَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ زَنْيَةً أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَكْلِ دِرْهَمٍ رِبًا يَعْلَمُ اللَّهُ أَنِّي أَكَلْتُهُ حِينَ أَكَلْتُهُ رِبًا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ الرَّاهِبِ ، عَنْ كَعْبِ الْأَحْبَارِ ، وَذَكَرَ الْحُسَيْنِيُّ أَنَّ حَنْظَلَةَ هَذَا غَسِيلُ الْمَلَائِكَةِ ، فَإِنْ كَانَ كَذَلِكَ ، فَقَدْ قُتِلَ بِأُحُدٍ ، فَكَيْفَ يَرْوِي عَنْ كَعْبٍ ؟ وَإِنْ كَانَ غَيْرُهُ فَلَمْ أَعْرِفْهُ . وَالظَّاهِرُ أَنَّهُ ابْنُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَنْظَلَةَ ، وَسَقَطَ مِنَ الْأَصْلِ عَبْدُ اللَّهِ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَى حَنْظَلَةَ . ¤کعب احبار بیان کرتے ہیں : میں تینتیس مرتبہ زنا کر لوں ، یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ پسندیدہ ہو گا کہ میں ایک درہم سود کا کھا لوں جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ یہ جانتا ہو کہ جب میں نے اسے کھایا ہے ، تو اسے سود کے طور پر کھایا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے حنظلہ بن راہب کے حوالے سے کعب احبار سے نقل کی ہے حسینی نے یہ بات ذکر کی ہے : حنظلہ نامی یہ صاحب وہی ہیں ، جنہیں فرشتوں نے غسل دیا تھا ، اگر ایسا ہی ہو وہ تو غزوہ احد کے موقع پر شہید ہو گئے تھے ، تو وہ کعب احبار سے کیسے روایت حاصل کر سکتے ہیں ؟ اور اگر یہ ان کے علاوہ کوئی اور ہیں ، تو پھر میں اس سے واقف نہیں ہوں ، بظاہر یہ لگتا ہے کہ یہ ان کے صاحبزادے عبداللہ بن حنظلہ ہیں ، اور اصل میں عبداللہ کا نام ساقط ہو گیا ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ، اس روایت کے سیدنا حنظلہ رضی اللہ عنہ تک تمام رجال صحیح کے رجال ہیں ۔