مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الرِّبَا . باب: سود کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " رَأَيْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي لَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَى السَّمَاءِ السَّابِعَةِ فَنَظَرْتُ فَوْقَ - قَالَ عَفَّانُ : فَوْقِيَ - فَإِذَا أَنَا بِرَعْدٍ ، وَبُرُوقٍ ، وَصَوَاعِقَ " . قَالَ : " فَأَتَيْتُ عَلَى قَوْمٍ بُطُونُهُمْ كَالْبُيُوتِ فِيهَا الْحَيَّاتُ تُرَى مِنْ خَارِجِ بُطُونِهِمْ ، قُلْتُ : يَا جِبْرِيلُ مَنْ هَؤُلَاءِ ؟ قَالَ : هَؤُلَاءِ أَكَلَةُ الرِّبَا " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ الْإِمَامُ أَحْمَدُ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ فِي عَجَائِبِ الْمَخْلُوقَاتِ ، وَقَدْ رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ بِاخْتِصَارٍ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، وَفِيهِ كَلَامٌ ، وَالْغَالِبُ عَلَيْهِ الضَّعْفُ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جس رات مجھے معراج کروائی گئی ، میں نے دیکھا کہ جب ہم ساتویں آسمان پر پہنچے ، تو میں نے اوپر دیکھا ( یہاں ایک راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : میں نے اپنے اوپر دیکھا ) تو وہاں کڑک تھی ، بجلی تھی ، چمکتی ہوئی بجلیاں تھیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : میں کچھ لوگوں کے پاس آیا ، جن کے پیٹ گھروں کی مانند تھے ، جن میں سانپ موجود تھے ، باہر سے اُن کے پیٹ دکھائی دے رہے تھے میں نے دریافت کیا : جبرائیل یہ کون لوگ ہیں ؟ انہوں نے بتایا : یہ سود کھانے والے ہیں “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام أحمد نے عجائب مخلوقات کے بارے ایک طویل حدیث کے ضمن میں نقل کی ہے
یہ روایت امام ابن ماجہ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ، اس پر ضعیف ہونا غالب ہے ۔