حدیث نمبر: 6579
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : آكِلُ الرِّبَا ، وَمُؤَكِّلُهُ ، وَكَاتِبُهُ ، وَشَاهِدَاهُ إِذَا عَلِمُوا بِهِ ، وَالْوَاشِمَةُ ، وَالْمُسْتَوْشِمَةُ لِلْحُسْنِ ، وَلَاوِي الصَّدَقَةِ ، وَالْمُرْتَدُّ أَعْرَابِيًّا بَعْدَ الْهِجْرَةِ - مَلْعُونُونَ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ ، وَغَيْرُهُ بَعْضَهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الْحَارِثُ الْأَعْوَرُ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : سود کھانے والا ، اسے کھلانے والا ، اس کو لکھنے والا اس کے دونوں گواہ ، جب وہ لوگ اس کے بارے میں جانتے ہوں ، اور حسن کی خاطر جسم گودنے والی عورت اور گدوانے والی عورت ، اور صدقہ نہ دینے والا شخص ، اور ہجرت کے بعد مرتد ہو کر دیہاتی زندگی اختیار کرنے والا فرد ( ان سب پر ) سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی لعنت کی گئی ہے یا یہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی ملعون قرار پائے ہیں ) ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : صحیح اور دیگر کتابوں میں اس کا کچھ حصہ منقول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حارث اعور ہے اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6579
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلي فى المسند (5241) اخرجه احمد فى المسند (3889)»