حدیث نمبر: 6522
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ قَالَ : مَاتَ رَجُلٌ مِنَّا وَتَرَكَ أُمَّ وَلَدٍ [ لَهُ ] ، فَأَرَادَ الْوَلِيدُ بْنُ عُقْبَةَ أَنْ يَبِيعَهَا فِي دَيْنِهِ ، فَأَتَيْنَا ابْنَ مَسْعُودٍ ، فَوَجَدْنَاهُ يُصَلِّي ، فَانْتَظَرْنَاهُ حَتَّى فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ ، فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ : إِنْ كُنْتُمْ لَا بُدَّ فَاعِلِينَ ، فَاجْعَلُوهَا فِي نَصِيبِ وَلَدِهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

زید بن وہب بیان کرتے ہیں : ہم میں سے ایک شخص فوت ہو گیا اس نے اپنی ایک ام ولد کو ( پس ماندگان میں ) چھوڑ اولید بن عقبہ نے یہ ارادہ کیا کہ اس شخص کے ذمہ قرض کی ادائیگی کے لئے اس اُم والد کو فروخت کر دے ۔ ہم سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ہم نے انہیں نماز پڑھتے ہوئے پایا ہم ان کا انتظار کرتے رہے جب وہ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو ہم نے یہ صورت حال ان کے سامنے ذکر کی تو انہوں نے فرمایا : اگر تم نے ایسا ہی کرنا ہے ، تو اس اُم ولد کنیز کو اس کے بچے کے حصے میں شامل کر دو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6522
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (9684)»