حدیث نمبر: 6521
عَنْ أَنَسٍ قَالَ : لَقَدْ رَأَيْتُنَا نَتَبَايَعُ أُمَّهَاتِ الْأَوْلَادِ ، وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَ أَظْهُرِنَا . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُعَاوِيَةُ بْنُ يَحْيَى الصَّدَفِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : مجھے اپنے بارے میں یہ بات یاد ہے کہ ہم ام ولد کنیزوں کی خرید و فروخت کیا کرتے تھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان موجود تھے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی معاویہ بن یحیی صدفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی معاویہ بن یحیی صدفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 6522
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ قَالَ : مَاتَ رَجُلٌ مِنَّا وَتَرَكَ أُمَّ وَلَدٍ [ لَهُ ] ، فَأَرَادَ الْوَلِيدُ بْنُ عُقْبَةَ أَنْ يَبِيعَهَا فِي دَيْنِهِ ، فَأَتَيْنَا ابْنَ مَسْعُودٍ ، فَوَجَدْنَاهُ يُصَلِّي ، فَانْتَظَرْنَاهُ حَتَّى فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ ، فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ : إِنْ كُنْتُمْ لَا بُدَّ فَاعِلِينَ ، فَاجْعَلُوهَا فِي نَصِيبِ وَلَدِهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
زید بن وہب بیان کرتے ہیں : ہم میں سے ایک شخص فوت ہو گیا اس نے اپنی ایک ام ولد کو ( پس ماندگان میں ) چھوڑ اولید بن عقبہ نے یہ ارادہ کیا کہ اس شخص کے ذمہ قرض کی ادائیگی کے لئے اس اُم والد کو فروخت کر دے ۔ ہم سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ہم نے انہیں نماز پڑھتے ہوئے پایا ہم ان کا انتظار کرتے رہے جب وہ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو ہم نے یہ صورت حال ان کے سامنے ذکر کی تو انہوں نے فرمایا : اگر تم نے ایسا ہی کرنا ہے ، تو اس اُم ولد کنیز کو اس کے بچے کے حصے میں شامل کر دو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 6523
وَعَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ مَسْعُودٍ ، فَقَالَ : إِنَّ جَارِيَةً لِي قَدْ أَرْضَعَتِ ابْنًا لِي ، وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَبِيعَهَا فَمَقَتَهُ ابْنُ مَسْعُودٍ ، وَقَالَ : لَيْتَهُ يُنَادِي : مَنْ أَبِيعُهُ أُمَّ وَلَدِي ؟ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
علقمہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور بولا: میری ایک کنیز نے میرے بیٹے کو دودھ پلایا ہے اب میں اُسے فروخت کرنا چاہتا ہوں تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس پر ناراضگی کا اظہار کیا اور فرمایا : عنقریب یہ شخص یہ اعلان کرے گا کہ میں اپنی ام ولد کس کو فروخت کروں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔