مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابُ بَيْعِ الْمَلَاقِيحِ ، وَالْمَضَامِينِ ، وَحَبَلِ الْحَبَلَةِ . باب: ملاقیح ، مضامین ، اور حبل الحبلہ کی بیع
وَعَنْ عُبَيْدِ بْنِ نَضْلَةَ الْخُزَاعِيِّ قَالَ : أَصَابَ النَّاسَ جُهْدٌ شَدِيدٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : فَعَشَرَ رَجُلٌ بَعِيرًا لَهُ عَشْرًا ، ثُمَّ قَالَ : مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَأْخُذَ عَشِيرًا مِنْ هَذَا اللَّحْمِ بِقَلُوصٍ إِلَى حَبَلِ الْحَبَلَةِ ؟ قَالَ : فَأَخَذَ نَاسٌ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَمَرَ أَنْ يُرَدَّ فَرُدَّ الْبَيْعُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَهُوَ مُرْسَلٌ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا عبید بن نضلہ خزاعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں لوگوں کو شدید بھوک لاحق ہو گئی راوی بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے اپنے اونٹ کے گوشت کے دس حصے کیے اور پھر اس نے کہا: جو شخص چاہے وہ اس گوشت کا دسواں حصہ اس اونٹنی کے عوض میں حاصل کر لے ، جو اس کے حاملہ جانور کے ہاں پیدا ہو گی ، راوی بیان کرتے ہیں : لوگوں نے اس طرح گوشت لے لیا جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی اطلاع ملی تو آپ نے ارشاد فرمایا : اسے ختم کیا جائے تو وہ سودا کالعدم قرار دیا گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور
یہ روایت ” مرسل “ ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔