مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنَ الْأَجْرِ . باب: کون سے معاوضے کو مکروہ ( یا حرام ) قرار دیا گیا ہے
وَعَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِمِثْلِ حَدِيثٍ يَأْتِي ، وَهَذَا قَالَ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَرِيَّةٍ ، فَقَالَ رَجُلٌ : أَخْرُجُ مَعَكَ عَلَى أَنْ تَجْعَلَ لِي سَهْمًا مِنَ الْمَغْنَمِ . ثُمَّ قَالَ : وَاللَّهِ مَا أَدْرِي أَتَغْنَمُونَ أَمْ لَا ؟ ، وَلَكِنِ اجْعَلْ لِي سَهْمًا مَعْلُومًا . فَجَعَلْتُ لَهُ ثَلَاثَةَ دَنَانِيرَ فَغَزَوْنَا ، فَأَصَبْنَا مَغْنَمًا ، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ ذَلِكَ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا أُحِلُّ لَهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ إِلَّا دَنَانِيرَهُ هَذِهِ الثَّلَاثَةَ الَّتِي أَخَذَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ . ¤سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اس کی مانند روایت نقل کرتے ہیں : جو آئے گی اس روایت میں یہ ہے راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک جنگی مہم پر بھیجا ایک شخص نے کہا: میں آپ کے ساتھ جاؤں گا اس شرط پر کہ آپ مال غنیمت میں سے ایک حصہ مجھے دیں گے پھر اس نے کہا: اللہ کی قسم مجھے تو یہ پتہ ہی نہیں ہے کہ کیا کوئی مال غنیمت ملے گا بھی یا نہیں ملے گا ؟ بلکہ آپ ایک متعین حصہ ( یعنی معاوضہ ) میرے لئے مقرر کریں میں نے اس کے لئے تین دینار مقرر کر دیے پھر ہم نے جنگ میں حصہ لیا ہمیں مال غنیمت ملا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اسے دنیا اور آخرت میں سے صرف وہ تین دینا ملیں گے جو اس نے حاصل کر لیے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔