مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنَ الْأَجْرِ . باب: کون سے معاوضے کو مکروہ ( یا حرام ) قرار دیا گیا ہے
عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ قَالَ : غَزَوْنَا مَعَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، وَمَعَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، وَأَبُو عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ فَأَصَابَتْنَا مَخْمَصَةٌ شَدِيدَةٌ فَوَجَدْتُ قَوْمًا يُرِيدُونَ أَنْ يَنْحَرُوا جَزُورًا ، فَقُلْتُ : أُعِينُكُمْ عَلَيْهَا ، وَأَنْحَرُهَا وَتُعْطُونِي مِنْهَا شَيْئًا ؟ قَالُوا : نَعَمْ . فَفَعَلْتُ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَ : قَدْ تَعَجَّلْتَ أَجْرَكَ وَمَا أَنَا بِآكِلِهِ . وَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ مِثْلَ ذَلِكَ . فَتَقَدَّمَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا رَآنِي قَالَ : " أَصَاحِبُ الْجَزُورِ ؟ ! " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ رَبِيعَةُ بْنُ الْهَرِمِ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک جنگ میں شریک ہوئے ہمارے ساتھ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ تھے ہمیں شدید بھوک لاحق ہوئی میں نے کچھ لوگوں کو پایا کہ وہ یہ ارادہ کر رہے ہیں کہ وہ کسی اونٹ کو قربان کر دیں میں نے کہا: میں اس حوالے سے تم لوگوں کی مدد کروں گا اور میں اسے نحر ( قربان ) کروں گا تم اس میں سے کچھ ( گوشت ) مجھے دے دینا انہوں نے کہا: ٹھیک ہے میں نے ایسا ہی ہے اس بات کا ذکر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کیا گیا تو انہوں نے فرمایا تم نے اپنا اجر حاصل کرنے میں جلدی کی ہے میں اسے نہیں کھاؤں سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے بھی اس کی مانند بات کہی پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ملاحظ فرمایا تو ارشاد فرمایا : کیا یہ اونٹ والا شخص ہے ؟
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ربیعہ بن ہرم ہے میں نے کسی سے اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔