مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي ثَمَنِ الْمَيْتَةِ ، وَالْخِنْزِيرِ ، وَالْكَلْبِ ، وَغَيْرِ ذَلِكَ . باب: مردار ، خنزیر ، کتے اور دیگر چیزوں کی قیمت کا حکم
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَامَ الْفَتْحِ بِمَكَّةَ يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ حَرَّمَ بَيْعَ الْخَمْرِ ، وَالْمَيْتَةِ ، وَالْخِنْزِيرِ " . فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ شُحُومَ الْمَيْتَةِ ، فَإِنَّهُ يُدْهَنُ بِهَا السُّفُنُ وَيُدْهَنُ بِهَا الْجُلُودُ ، وَيَسْتَصْبِحُ بِهَا النَّاسُ ؟ فَقَالَ : " لَا ، هِيَ حَرَامٌ " . ثُمَّ قَالَ : " قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ إِنَّ اللَّهَ لَمَّا حَرَّمَ عَلَيْهِمُ الشُّحُومَ جَمَّلُوهَا ، ثُمَّ بَاعُوهَا ، فَأَكَلُوا ثَمَنَهَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ ، وَثَمَنِ الْخِنْزِيرِ ، وَعَنْ مَهْرِ الْبَغِيِّ ، وَعَنْ عَسْبِ الْفَحْلِ . وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . وَإِسْنَادُ الطَّبَرَانِيِّ حَسَنٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : فتح کے سال مکہ مکرمہ میں ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے بے شک اللہ تعالیٰ نے شراب ، مردار اور خنزیر کو فروخت کرنے کو حرام قرار دے دیا ہے عرض کی گئی یا رسول اللہ ! مردار کی چربی کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے کیونکہ اس کے ذریعے کشتیوں کو تیل لگایا جاتا ہے کھالوں کو تیل لگایا جاتا ہے اور لوگ اس کے ذریعے روشنی بھی حاصل کرتے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جی نہیں ! وہ حرام ہے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ یہودیوں کو برباد کرے بے شک جب اللہ تعالیٰ نے ان پر چربی کو حرام قرار دیا تو انہوں نے اسے پگھلا لیا پھر وہ اس کو فروخت کر کے اس کی قیمت کھا لیتے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت خنزیر کی قیمت فاحشہ عورت کی کمائی نر جانور کو جفتی کے لئے دینے کے معاوضے ( سے منع کیا ہے ) ۔ امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں امام طبرانی کی سند حسن ہے ۔