کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: مردار ، خنزیر ، کتے اور دیگر چیزوں کی قیمت کا حکم
حدیث نمبر: 6416
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَامَ الْفَتْحِ بِمَكَّةَ يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ حَرَّمَ بَيْعَ الْخَمْرِ ، وَالْمَيْتَةِ ، وَالْخِنْزِيرِ " . فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ شُحُومَ الْمَيْتَةِ ، فَإِنَّهُ يُدْهَنُ بِهَا السُّفُنُ وَيُدْهَنُ بِهَا الْجُلُودُ ، وَيَسْتَصْبِحُ بِهَا النَّاسُ ؟ فَقَالَ : " لَا ، هِيَ حَرَامٌ " . ثُمَّ قَالَ : " قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ إِنَّ اللَّهَ لَمَّا حَرَّمَ عَلَيْهِمُ الشُّحُومَ جَمَّلُوهَا ، ثُمَّ بَاعُوهَا ، فَأَكَلُوا ثَمَنَهَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ ، وَثَمَنِ الْخِنْزِيرِ ، وَعَنْ مَهْرِ الْبَغِيِّ ، وَعَنْ عَسْبِ الْفَحْلِ . وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . وَإِسْنَادُ الطَّبَرَانِيِّ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : فتح کے سال مکہ مکرمہ میں ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے بے شک اللہ تعالیٰ نے شراب ، مردار اور خنزیر کو فروخت کرنے کو حرام قرار دے دیا ہے عرض کی گئی یا رسول اللہ ! مردار کی چربی کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے کیونکہ اس کے ذریعے کشتیوں کو تیل لگایا جاتا ہے کھالوں کو تیل لگایا جاتا ہے اور لوگ اس کے ذریعے روشنی بھی حاصل کرتے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جی نہیں ! وہ حرام ہے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ یہودیوں کو برباد کرے بے شک جب اللہ تعالیٰ نے ان پر چربی کو حرام قرار دیا تو انہوں نے اسے پگھلا لیا پھر وہ اس کو فروخت کر کے اس کی قیمت کھا لیتے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت خنزیر کی قیمت فاحشہ عورت کی کمائی نر جانور کو جفتی کے لئے دینے کے معاوضے ( سے منع کیا ہے ) ۔ امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں امام طبرانی کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت خنزیر کی قیمت فاحشہ عورت کی کمائی نر جانور کو جفتی کے لئے دینے کے معاوضے ( سے منع کیا ہے ) ۔ امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں امام طبرانی کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 6417
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لَمَّا فَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَكَّةَ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ حَرَّمَ عَلَيْكُمْ شُرْبَ الْخَمْرِ وَثَمَنَهَا ، وَحَرَّمَ عَلَيْكُمْ أَكْلَ الْمَيْتَةِ وَثَمَنَهَا ، وَحَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْخَنَازِيرَ وَأَكْلَهَا وَثَمَنَهَا ، وَقُصُّوا الشَّوَارِبَ ، وَأَعْفُوا اللِّحَى ، وَلَا تَمْشُوا فِي الْأَسْوَاقِ إِلَّا وَعَلَيْكُمُ الْإِزَارُ ، إِنَّهُ لَيْسَ مِنَّا مَنْ عَمِلَ سُنَّةَ غَيْرِنَا " . ¤ رَوَاهُ بِطُولِهِ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَالْكَبِيرِ بِاخْتِصَارٍ ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ مَيْمُونٍ ؛ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَضَعَّفَهُ الْأَئِمَّةُ : أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ فتح کر لیا تو آپ نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ اور اس کے رسول نے تم پر شراب پینے کو اور اس کی قیمت کو حرام قرار دیا ہے اور انہوں نے تم پر مردار کھانے اور اس کی قیمت کو حرام قرار دیا ہے اور انہوں نے تم پر خنزیر اس کے کھانے اور اس کی قیمت کو حرام قرار دیا ہے تم مونچھیں چھوٹی رکھو اور داڑھی بڑھا کے رکھو اور جب تم بازار میں چلو تو تم نے تہبند ضرور باندھا ہوا ہو کیونکہ وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے ، جو ہمارے علاوہ کسی اور کے طریقے پر عمل کرتا ہے “ ۔
یہ روایت طویل روایت کے طور پر امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اختصار کے ساتھ معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن میمون ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے جبکہ ائمہ یعنی امام أحمد اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
یہ روایت طویل روایت کے طور پر امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اختصار کے ساتھ معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن میمون ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے جبکہ ائمہ یعنی امام أحمد اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔