مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْخَمْرِ وَثَمَنِهَا . باب: شراب اور اس کی قیمت کا بیان
وَعَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ قَالَ : أُهْدِيَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - زِقُّ خَمْرٍ بَعْدَمَا حُرِّمَتْ فَلَمَّا أُتِيَ بِهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " إِنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ " . فَقَالَ بَعْضُهُمْ : لَوْ بَاعُوهَا ، فَأَعْطَوْا ثَمَنَهَا فُقَرَاءَ الْمُسْلِمِينَ ، فَأَمَرَ بِهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأُهْرِيقَتْ فِي وَادٍ مِنْ أَوْدِيَةِ الْمَدِينَةِ ، وَقَالَ : " لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ حُرِّمَتْ عَلَيْهِمْ شُحُومُهَا ، فَبَاعُوهَا ، وَأَكَلُوا أَثْمَانَهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤یحیی بن عباد بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو شراب کا مشکیزہ پیش کیا گیا یہ اس کی حرمت کا حکم نازل ہونے کے بعد کی بات ہے جب اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا : شراب کو حرام قرار دے دیا گیا ہے ان لوگوں میں سے کسی نے عرض کی : اگر یہ لوگ اسے فروخت کر دیں اور اس کی قیمت غریب مسلمانوں کو دے دیں ( تو یہ ٹھیک رہے گا ؟ ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو اسے مدینہ منورہ کے نشیبی علاقے میں بہا دیا گیا آپ نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ یہودیوں پر لعنت کرے ان پر چربی کو حرام قرار دیا گیا تو انہوں نے اسے فروخت کر کے اس کی قیمت کو کھانا شروع کر دیا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اشعث بن سوار ہے اور وہ ثقہ ہے اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔