کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: شراب اور اس کی قیمت کا بیان
حدیث نمبر: 6400
عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ الْبُنَانِيِّ قَالَ : كُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ رَحِمَهُ اللَّهُ فَجَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، إِنِّي أَشْتَرِي هَذِهِ الْحِيطَانَ يَكُونُ فِيهَا الْعِنَبُ ، وَلَا نَسْتَطِيعُ أَنْ نَبِيعَهَا كُلَّهَا عِنَبًا حَتَّى نَعْصِرَهُ فَقَالَ : عَنْ ثَمَنِ الْخَمْرِ تَسْأَلُنِي ؟ ! سَأُحَدِّثُكَ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذْ رَفَعَ إِلَى السَّمَاءِ ، ثُمَّ أَكَبَّ وَنَكَتَ فِي الْأَرْضِ وَقَالَ : " الْوَيْلُ لِبَنِي إِسْرَائِيلَ " . فَقَالَ عُمْرُ رَحِمَهُ اللَّهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَقَدْ أَفْزَعَنَا قَوْلُكَ : الْوَيْلُ لِبَنِي إِسْرَائِيلَ ! فَقَالَ : " لَيْسَ عَلْيَكُمْ مِنْ ذَلِكَ بَأْسٌ إِنَّهُمْ لَمَّا حُرِّمَتْ عَلَيْهِمُ الشُّحُومُ ، فَيُذِيبُونَهُ فَيَبِيعُونَهُ ، فَيَأْكُلُونَ ثَمَنَهُ ، وَكَذَلِكَ ثَمَنُ الْخَمْرِ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ " . ¤ قُلْتُ : لِابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ فِي النَّهْيِ عَنْ ثَمَنِ الْخَمْرِ غَيْرُ هَذَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا عَبْدَ الْوَاحِدِ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین
عبدالواحد بنانی بیان کرتے ہیں : میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ موجود تھا ایک شخص ان کے پاس آیا اور بولا: اے ابوعبدالرحمن ! میں نے یہ باغ خریدا ہے ، جس میں انگور ہوتے ہیں ہم ان سب کو انگور کی شکل میں فروخت نہیں کر سکتے ہیں کچھ کو نچوڑنا پڑتا ہے ، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا تم مجھ سے شراب کی قیمت کے بارے میں دریافت کرنا چاہ رہے ہو ؟ میں تمہیں ایک حدیث سناتا ہوں جو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہے : ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اسی دوران آپ نے آسمان کی طرف سر اٹھایا اور پھر اسے جھکا لیا اور زمین سے کچھ کریدنے لگے پھر آپ نے ارشاد فرمایا : بنی اسرائیل کے لئے بربادی ہے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کے اس فرمان نے ہمیں پریشان کر دیا ہے کہ بنی اسرئیل کے لئے بربادی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس بربادی میں سے تم پر کچھ نہیں آئے گا ان لوگوں پر چربی کو حرام قرار دیا گیا تو وہ لوگ اسے پگھلا کر اسے فروخت کر دیتے تھے اور اس کی قیمت کھایا کرتے تھے اسی طرح تم لوگوں پر شراب کی قیمت حرام ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول حدیث کو امام ابوداؤد نے شراب کی قیمت کی ممانعت کے بارے میں نقل کیا ہے لیکن وہ روایت اس کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف عبدالواحد نامی راوی کا معاملہ مختلف ہے ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6400
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (5982)»
حدیث نمبر: 6401
وَعَنْ كَيْسَانَ أَنَّهُ كَانَ يَتَّجِرُ بِالْخَمْرِ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ، وَأَنَّهُ أَقْبَلَ مِنَ الشَّامِ ، وَمَعَهُ خَمْرٌ فِي الزُّقَاقِ يُرِيدُ بِهَا التِّجَارَةَ ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي قَدْ جِئْتُكَ بِشَرَابٍ جَيِّدٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا كَيْسَانُ ، إِنَّهَا قَدْ حُرِّمَتْ بَعْدَكَ " . قَالَ : أَفَنَبِيعُهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّهَا قَدْ حُرِّمَتْ وَحُرِّمَ ثَمَنُهَا " . فَانْطَلَقَ كَيْسَانُ إِلَى الزُّقَاقِ فَأَخَذَ بِأَرْجُلِهَا ، ثُمَّ أَهْرَقَهَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ نَافِعُ بْنُ كَيْسَانَ ، وَهُوَ مَسْتُورٌ ، وَفِي رِوَايَةِ الطَّبَرَانِيِّ : أَفَلَا أَبِيعُهَا مِنَ الْيَهُودِ ؟ فَقَالَ : " إِنَّ بَائِعَهَا كَشَارِبِهَا " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا کیسان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں وہ شراب کی تجارت کیا کرتے تھے ایک مرتبہ وہ شام سے آئے تو ان کے ساتھ شراب کے مشکیزے بھی تھے ، جن کی تجارت کا ارادہ تھا وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں آپ کے پاس بڑی عمدہ قسم کی شراب لے کے آیا ہوں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے کیسان تمہارے بعد اسے حرام قرار دے دیا گیا ہے ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ اسے فروخت کر دیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے اور اس کی قیمت ( دونوں کو ) حرام قرار دیا گیا ہے ، تو سیدنا کیسان رضی اللہ عنہ ان مشکیزوں کی طرف گئے اور پھر انہوں نے انہیں نیچے کی طرف سے پکڑ کے انہیں بہا دیا ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی نافع بن کیسان ہے اور وہ مستور ہے امام طبرانی کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : کیا ہم اسے یہودوں کو فروخت نہ کر دیں ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اسے فروخت کرنے والا اسے پینے والے کی مانند ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6401
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (195/19) اخرجه احمد فى المسند (335/4)»
حدیث نمبر: 6402
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ أَنَّ الدَّارِيَّ كَانَ يُهْدِي لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كُلَّ عَامٍ رَاوِيَةَ خَمْرٍ فَلَمَّا كَانَ عَامُ حُرِّمَتْ جَاءَ بِرَاوِيَةٍ ، فَلَمَّا نَظَرَ إِلَيْهَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحِكَ قَالَ : " هَلْ شَعَرْتَ أَنَّهَا حُرِّمَتْ بَعْدَكَ ؟ " . قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَا أَبِيعُهَا ، فَأَنْتَفِعَ بِثَمَنِهَا ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ ، لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ ، لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ ؛ انْطَلَقُوا إِلَى مَا حُرِّمَ عَلَيْهِمْ مِنْ شُحُومِ الْغَنَمِ ، وَالْبَقَرِ ، فَأَذَابُوهُ ، فَجَعَلُوهُ بِمِثَالِهِ فَبَاعُوا بِهِ مَا يَأْكُلُونَ ، وَإِنَّ الْخَمْرَ حَرَامٌ ، وَثَمَنَهَا حَرَامٌ ، وَإِنَّ الْخَمْرَ حَرَامٌ ، وَثَمَنَهَا حَرَامٌ ، وَإِنَّ الْخَمْرَ حَرَامٌ ، وَثَمَنَهَا حَرَامٌ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ هَكَذَا عَنِ ابْنِ غَنْمٍ أَنَّ الدَّارِيَّ ، وَفِيهِ شَهْرٌ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن غنم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : داری نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہر سال ایک شراب کا ایک مشکیزہ تحفے میں پیش کیا کرتا تھا جب وہ سال آیا جب اسے حرام قرار دے دیا گیا تو وہ صاحب مشکیزہ لے کے آئے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف دیکھا تو آپ ہنس پڑے اور آپ نے فرمایا : کیا تمہیں پتہ ہے کہ تمہارے بعد اسے حرام قرار دے دیا گیا ہے ؟ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا میں اسے فروخت نہ کر دوں اور اس کی قیمت کے ذریعے نفع حاصل کر لوں گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالی نے یہودیوں پر لعنت کی ہے اللہ تعالیٰ نے یہودیوں پر لعنت کی ہے اللہ تعالی نے یہودیوں پر لعنت کی ہے کہ وہ اس چیز کی طرف گئے کہ جب ان پر بکریوں اور گائے کی چربی کو حرام قرار دیا گیا تو انہوں نے اس کو پگھلا لیا اور پھر اس کو اس جیسا بنا کے اسے فروخت کرنے لگے اور اس کی قیمت کھانے لگے ، شراب حرام ہے اور اس کی قیمت بھی حرام ہے شراب حرام ہے اور اس کی قیمت بھی حرام ہے شراب حرام ہے اور اس کی قیمت بھی حرام ہے شراب حرام ہے اور اس کی قیمت بھی حرام ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اسی طرح سیدنا عبدالرحمن بن غنم رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نقل کی ہے کہ داری کا یہ معاملہ پیش آیا تھا اس کی سند میں ایک راوی شہر ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اور اس راوی کے بارے میں کلام پایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6402
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (227/4)»
حدیث نمبر: 6403
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ أَنَّهُ كَانَ يُهْدِي ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ بِاخْتِصَارٍ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " إِنَّهُ حَرَامٌ شِرَاؤُهَا وَثَمَنُهَا " . ¤ وَإِسْنَادُهُ مُتَّصِلٌ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں سیدنا عبدالرحمن بن غنم رضی اللہ عنہ کے حوالے سے سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے کہ وہ تحفے کے طور پر پیش کیا کرتے تھے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث اختصار کے طور پر نقل کیا ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” بے شک اسے فروخت کرنا اور اس کی قیمت بھی حرام ہے “ ۔ اس روایت کی سند متصل اور حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6403
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1275)»
حدیث نمبر: 6404
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : كَانَ رَجُلٌ يَحْمِلُ الْخَمْرَ مِنْ خَيْبَرَ إِلَى الْمَدِينَةِ فَيَبِيعُهَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، فَحَمَلَ مِنْهَا بِمَالٍ ، فَقَدِمَ بِهِ الْمَدِينَةَ ، فَلَقِيَهُ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، فَقَالَ : يَا فُلَانُ ، إِنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ . فَوَضَعَهَا حَيْثُ انْتَهَى عَلَى تَلٍّ وَسَجَّى عَلَيْهَا بِالْأَكْسِيَةِ ، ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بَلَغَنِي أَنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ ؟ قَالَ : " أَجَلْ " قَالَ : أَلِيَ أَنْ أَرُدَّهَا عَلَى مَنِ ابْتَعْتُهَا مِنْهُ ؟ قَالَ : " لَا يَصْلُحُ رَدُّهَا " . قَالَ : أَلِيَ أَنْ أُهْدِيَهَا إِلَى مَنْ يُكَافِئُنِي مِنْهَا ؟ قَالَ : " لَا " قَالَ : إِنَّ فِيهَا مَالًا لِيَتَامَى فِي حِجْرِي ، قَالَ : " إِذَا أَتَانَا مَالُ الْبَحْرَيْنِ فَأْتِنَا نُعَوِّضْ أَيْتَامَكَ مِنْ مَالِهِمْ " . ثُمَّ نَادَى : " يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ " ، قَالَ : فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الْأَوْعِيَةُ نَنْتَفِعُ بِهَا ؟ قَالَ : " فَحَلُّوا أَوْكِيَتَهَا " . فَانْصَبَّتْ حَتَّى اسْتَقَرَّتْ فِي بَطْنِ الْوَادِي " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِي الطَّبَرَانِيِّ الْأَوْسَطِ طَرَفٌ مِنْهُ بِمَعْنَاهُ ، وَفِي إِسْنَادِ الْجَمِيعِ يَعْقُوبُ الْقُمِّيُّ ، وَعِيسَى بْنُ جَارِيَةَ ، وَفِيهِمَا كَلَامٌ ، وَقَدْ وُثِّقَا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص خیبر سے مدینہ منورہ شراب لاد کر لایا کرتا تھا اسے مسلمانوں کو فروخت کیا کرتا تھا اس کے عوض میں مال حاصل کرتا تھا ایک مرتبہ وہ شراب لے کے مدینہ منورہ آیا مسلمانوں میں سے ایک شخص کی اس سے ملاقات ہوئی تو اس نے کہا: اے فلاں ! شراب کو تو حرام قرار دے دیا گیا ہے ، تو وہ شخص جہاں موجود تھا اس نے وہاں ایک ٹیلے کے اوپر شراب رکھی اس پر چادر ڈال دی پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کی : یا رسول اللہ مجھے یہ بات پتہ چلا ہے کہ شراب کو حرام قرار دے دیا گیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! اس نے عرض کی : کیا مجھے اس بات کا حق حاصل ہے کہ میں نے جس سے اسے خریدا ہے اسے میں واپس کر دوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اسے واپس کرنا ٹھیک نہیں ہے اس نے عرض کی : کیا مجھے اس بات کا حق حاصل ہے کہ میں کسی ایسے شخص کو اسے تحفے کے طور پر دے دوں جو اس کے بدلے میں مجھے کچھ دیدے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! اس نے عرض کی : اس میں کچھ یتیموں کا مال بھی ہے ، جو میرے زیر پرورش ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب بحرین کا مال ہمارے پاس آئے گا تو تم ہمارے پاس آ جانا تمہارے زیر پرورش یتیم بچوں کے مال کا معاوضہ ہم تمہیں دے دیں گے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان کروایا اے اہل مدینہ راوی کہتے ہیں : ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ برتن بھی ہیں جن سے ہم نفع حاصل کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم ان کی بندش کھول دو یہاں تک کہ شراب بہہ جائے اور شیبی حصے میں چلی جائے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں اس روایت کے ایک حصے کا مفہوم نقل کیا ہے اور ان تمام کی سند میں ایک راوی یعقوب قمی اور ایک عیسیٰ بن جاریہ ہے اور ان دونوں کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ویسے ان دونوں کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6404
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلي فى المسند (1884 و2074)»
حدیث نمبر: 6405
وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَجُلًا مِنْ ثَقِيفٍ أَهْدَى لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَاوِيَةً مِنْ خَمْرٍ بَعْدَمَا حُرِّمَ الْخَمْرُ ، فَأَمَرَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَشُقَّتْ ، فَقَالَ رَجُلٌ : لَوْ أَمَرْتَ بِهَا فَتُبَاعُ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ الَّذِي حَرَّمَ شُرْبَهَا حَرَّمَ بَيْعَهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ دَاوُدَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ثقیف قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو شراب کا ایک مشکیزہ تحفے کے طور پر پیش کیا یہ شراب کی حرمت نازل ہونے کے بعد کی بات ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت اسے چیر دیا گیا اس شخص نے عرض کی : اگر آپ اس کے بارے میں حکم دیتے تو اسے فروخت کر دیا جاتا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جس ذات نے اس کے پینے کو حرام قرار دیا ہے اس نے اس کو فروخت کرنے کو بھی حرام قرار دیا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں مقدام بن داؤد کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6405
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 6406
وَعَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ قَالَ : أُهْدِيَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - زِقُّ خَمْرٍ بَعْدَمَا حُرِّمَتْ فَلَمَّا أُتِيَ بِهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " إِنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ " . فَقَالَ بَعْضُهُمْ : لَوْ بَاعُوهَا ، فَأَعْطَوْا ثَمَنَهَا فُقَرَاءَ الْمُسْلِمِينَ ، فَأَمَرَ بِهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأُهْرِيقَتْ فِي وَادٍ مِنْ أَوْدِيَةِ الْمَدِينَةِ ، وَقَالَ : " لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ حُرِّمَتْ عَلَيْهِمْ شُحُومُهَا ، فَبَاعُوهَا ، وَأَكَلُوا أَثْمَانَهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
یحیی بن عباد بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو شراب کا مشکیزہ پیش کیا گیا یہ اس کی حرمت کا حکم نازل ہونے کے بعد کی بات ہے جب اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا : شراب کو حرام قرار دے دیا گیا ہے ان لوگوں میں سے کسی نے عرض کی : اگر یہ لوگ اسے فروخت کر دیں اور اس کی قیمت غریب مسلمانوں کو دے دیں ( تو یہ ٹھیک رہے گا ؟ ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو اسے مدینہ منورہ کے نشیبی علاقے میں بہا دیا گیا آپ نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ یہودیوں پر لعنت کرے ان پر چربی کو حرام قرار دیا گیا تو انہوں نے اسے فروخت کر کے اس کی قیمت کو کھانا شروع کر دیا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اشعث بن سوار ہے اور وہ ثقہ ہے اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6406
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 6407
وَعَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَجُلًا مِنْ ثَقِيفٍ يُكَنَّى أَبَا تَمَّامٍ أَهْدَى لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَاوِيَةَ خَمْرٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّهَا قَدْ حُرِّمَتْ يَا أَبَا تَمَّامٍ " . فَقَالَ لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَأَسْتَنْفِقُ ثَمَنَهَا ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ الَّذِي حَرَّمَ شُرْبَهَا حَرَّمَ ثَمَنَهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
عامر بن ربیعہ اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : ثقیف قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب ، جن کی کنیت ابوتمام تھی ۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو شراب کا مشکیزہ تحفے کے طور پر پیش کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے ابوتمام ! اسے حرام قرار دے دیا گیا ہے ۔ انہوں نے آپ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا میں اس کی قیمت استعمال کر سکتا ہوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بیشک جس نے اس کے پینے کو حرام قرار دیا ہے اس نے اس کی قیمت کو بھی حرام قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6407
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الأوسط (439)»
حدیث نمبر: 6408
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْخَمْرَ ، وَشَارِبِهَا ، وَسَاقِيَهَا ، وَعَاصَرَهَا ، وَمُعْتَصِرَهَا ، وَحَامِلَهَا ، وَالْمَحْمُولَةَ إِلَيْهِ ، وَبَايِعَهَا ، وَمُبْتَاعَهَا ، وَآكِلَ ثَمَنِهَا . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عِيسَى بْنُ أَبِي عِيسَى الْحَنَّاطُ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب پینے والے پر اسے پلانے والے پر اسے نچوڑنے والے پر اسے نچڑوانے والے پر اسے لاد کر لے جانے والے پر اور جس کی طرف وہ لاد کر لے جائی جا رہی ہو اس پر اور جو اس کو فروخت کرے اور جو اسے خریدے اور جو اس کی قیمت کو کھائے ( ان سب پر لعنت کی ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن ابوعیسی حناط ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6408
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2937)»
حدیث نمبر: 6409
وَعَنِ الْحَسَنِ أَنَّ مَوْلًى لِعُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ سَأَلَهُ أَنْ يُعْطِيَهُ مَالًا يَتَّجِرُ فِيهِ ، وَالرِّبْحُ بَيْنَهُمَا ، فَأَعْطَاهُ عِشْرِينَ أَلْفَ دِرْهَمٍ فَاشْتَرَى بِهِ خَمْرًا ، ثُمَّ قَدِمَ بِهِ الْأُبُلَّةَ فَخَرَجَ إِلَيْهِ عُثْمَانُ ، فَلَمْ يَدَعْ مِنْهَا دِنًّا ، وَلَا غَيْرَهُ إِلَّا كَسَرَهُ ، وَقَالَ عُثْمَانُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَعَنَ الْخَمْرَ وَشَارِبَهَا ، وَمُشْتَرِيَهَا ، وَبَائِعَهَا ، وَعَاصِرَهَا ، وَحَامِلَهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَالْكَبِيرِ وَزَادَ فِيهِ : وَمُعْتَصِرَهَا ، وَالْمَحْمُولَةَ إِلَيْهِ ، وَآكِلَ ثَمَنِهَا . ¤ وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِيسَى الْخَزَّازُ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
حسن بیان کرتے ہیں : سیدنا عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ کے غلام نے ان سے یہ درخواست کی کہ وہ اسے کچھ مال دیں ، جس کے ذریعے وہ تجارت کرے اور منافع ان دونوں کے درمیان تقسیم ہو جائے گا تو انہوں نے اس غلام کو بیس ہزار درہم دیے اس غلام نے اس کے ذریعے شراب خرید لی پھر وہ اسے لے کر ابلہ آیا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نکل کر اس کی طرف گئے ۔ انہوں نے شراب کے ہر ایک مٹکے کو توڑ دیا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب پر اسے پینے والے پر اسے خریدنے والے پر اسے فروخت کرنے والے پر اسے نچوڑنے والے پر اسے لاد کر لے جانے والے پر لعنت کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اور انہوں نے اس میں یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” اسے نچڑوانے والے پر جس کی طرف وہ لاد کر لے جائی جا رہی ہے اس پر اور اس کی قیمت کھانے والے پر ( لعنت کی ہے ) “ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عیسیٰ خزاز اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6409
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8387)»
حدیث نمبر: 6410
وَعَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى عَنِ الْخَمْرِ ، وَحَرَّمَ ثَمَنَهَا . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ان کے حوالے سے یہ بات منقول ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب کو منع کیا ہے اور اس کی قیمت کو حرام قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6410
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1282)»
حدیث نمبر: 6411
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : لَعَنَ اللَّهُ الْخَمْرَ ، وَعَاصِرَهَا ، وَشَارِبَهَا ، وَسَاقِيَهَا ، وَبَائِعَهَا ، وَمُبْتَاعَهَا ، وَحَامِلَهَا ، وَالْمَحْمُولَةَ إِلَيْهِ ، وَآكِلَ ثَمَنِهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ . ¤ قُلْتُ : وَتَأْتِي أَحَادِيثُ فِي الْأَشْرِبَةِ مِنْ نَحْوِ هَذَا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اللہ تعالی نے شراب پر اسے نچوڑنے والے پر اسے پلانے والے پر اسے فروخت کرنے والے پر اسے خریدنے والے پر اسے لاد کر لے جانے والے پر جس کی طرف اسے لاد کر لے جایا جا رہا ہو اس پر اور اس کی قیمت کھانے والے ( ان سب پر ) لعنت کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے وہ ثقہ ہے لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس بارے میں کچھ احادیث مشروبات سے متعلق باب میں آگے آئیں گے جو اس نوعیت سے متعلق ہوں گی ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6411
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الأوسط (2755)»
حدیث نمبر: 6412
وَعَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ أَنَّهُ أَهْدَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَاوِيَةَ خَمْرٍ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا عَامِرُ ، أَمَا عَلِمْتَ أَنَّهَا قَدْ حُرِّمَتْ بَعْدَكَ ؟ " . قَالَ : أَفَلَا أَبِيعُهَا لِلْيَهُودِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " إِنَّ بَائِعَهَا كَشَارِبِهَا ، فَأَهْرَقَهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ الرُّهَاوِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ منقول ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو شراب کا مشکیزہ تحفے کے طور پر دیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : اے عامر کیا تم یہ بات نہیں جانتے ہو کہ تمہارے بعد اسے حرام قرار دے دیا گیا ہے ؟ انہوں نے عرض کی : کیا میں اسے کسی یہودی کو فروخت نہ کر دوں ؟ یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اسے فروخت کرنے والا اسے پینے والے کی مانند ہے ، تو انہوں نے اسے بہا دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں اس کی سند میں ایک راوی یزید بن سنان رہاوی ہے وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6412
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 6413
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لَمَّا نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَا نَبِيعُ ؟ قَالَ : " إِنَّ الَّذِي حَرَّمَ شُرْبَهَا حَرَّمَ بَيْعَهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب شراب کی حرمت کا حکم نازل ہوا تو لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا ہم اس کو فروخت نہ کر دیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس نے اس کے پینے کو حرام قرار دیا ہے اس نے اس کو فروخت کرنے کو بھی حرام قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6413
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 6414
وَعَنْ أُمِّ سُلَيْمٍ قَالَتْ : لَمَّا نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - هَاتِفًا يَهْتِفُ : " أَلَا إِنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ فَلَا تَبِيعُوهَا ، وَلَا تَبْتَاعُوهَا ، وَمَنْ كَانَ عِنْدَهُ مِنْهَا شَيْءٌ فَلْيُهْرِقْهُ " . ¤ قَالَ أَبُو طَلْحَةَ : يَا غُلَامُ ، احْلُلْ عَنِ الْمَزَادَةِ فَأَهْرِقْهَا ، فَأَهْرَقَ النَّاسُ وَمَا لَهُمْ خَمْرٌ يَوْمَئِذٍ إِلَّا الْبُسْرُ وَالتَّمْرُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْوَلِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُوَقَّرِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں جب شراب کی حرمت کا حکم نازل ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منادی کو یہ حکم دیا کہ وہ یہ اعلان کرے خبردار ! شراب کو حرام قرار دے دیا گیا ہے ، تو اب تم اسے فروخت نہ کرو اور اسے نہ خریدو ، اور جس کے پاس اس کا کچھ بھی ہو وہ اس کو بہا دے “ ۔ ( سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں ) سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے لڑکے ! مشکیزے کا منہ کھول دو اور اسے بہا دو ، تو لوگوں نے شراب کو بہا دیا حالانکہ ان دنوں ان کی شراب صرف ( کھجور کی دو قسموں ) بسر اور تمر سے بنائی جاتی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ولید بن محمد موقری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6414
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف