مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّفْقَتَيْنِ فِي صَفْقَةٍ أَوِ الشَّرْطِ فِي الْبَيْعِ . باب: ایک ہی سودے میں دو سودے کرنے یا سودے میں کوئی شرط عائد کرنے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 6389
وَعَنْ عَتَّابِ بْنِ أَسِيدٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لَهُ حِينَ أَمَّرَهُ مَكَّةَ : " هَلْ أَنْتَ مُبَلِّغٌ عَنِّي قَوْمَكَ مَا آمُرُكَ بِهِ ؟ قُلْ لَهُمْ : لَا يَجْمَعْ أَحَدُكُمْ بَيْعًا وَسَلَفًا ، وَلَا يَبِعْ أَحَدُكُمْ بَيْعَ غَرَرٍ ، وَلَا يَبِعْ أَحَدٌ مَا لَيْسَ عِنْدَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ الرَّبَذِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اہل مکہ کا امیر مقرر کیا ، تو ان سے فرمایا کیا میں تمہیں جس بات کی ہدایت کروں گا تم میری طرف سے اپنی قوم کو اس کی تبلیغ کر دو گے ؟ تم ان سے یہ کہنا کہ تم میں سے کوئی ایک شخص بیع اور سلف کو جمع نہ کرے اور تم میں سے کوئی ایک شخص دھوکے کا سودا نہ کرے اور تم میں سے کوئی ایک شخص کوئی ایسی چیز فروخت نہ کرے جو اس کے پاس نہ ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ربذی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔