کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: ایک ہی سودے میں دو سودے کرنے یا سودے میں کوئی شرط عائد کرنے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 6382
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ صَفْقَتَيْنِ فِي صَفْقَةٍ وَاحِدَةٍ . ¤ قَالَ سِمَاكٌ : الرَّجُلُ يَبِيعُ الْبَيْعَ فَيَقُولُ : هُوَ بِنُسَاء بِكَذَا وَكَذَا . وَهُوَ بِنَقْدٍ بِكَذَا وَكَذَا . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَأَحْمَدُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہی سودے میں دو سودے کرنے سے منع کیا ہے ۔ سماک نامی راوی کہتے ہیں : ( اس سے مراد یہ ہے ) ایک شخص کوئی چیز فروخت کرتا ہے اور پھر یہ کہتا ہے ، ادھار کی صورت میں یہ اتنے اتنے کی ہو گی اور نقد کی صورت میں یہ اتنے اتنے کی ہو گی ۔
یہ روایت امام بزار اور امام أحمد نے نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام بزار اور امام أحمد نے نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 6383
وَرَوَى لَهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَلَفْظُهُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَحِلُّ صَفْقَتَانِ فِي صَفْقَةٍ " . ¤
محمد محی الدین
امام طبرانی نے ان کے حوالے سے معجم اوسط میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ایک سودے میں دو سودے حلال نہیں ہیں “ ۔
حدیث نمبر: 6384
وَرَوَاهُ فِي الْكَبِيرِ وَلَفْظُهُ : " الصَّفْقَةُ بِالصَّفْقَتَيْنِ رِبًا " . وَهُوَ مَوْقُوفٌ . ¤ وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ كَذَلِكَ وَزَادَ : وَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِإِسْبَاغِ الْوُضُوءِ . ¤ وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
یہ روایت انہوں نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے الفاظ یہ ہیں : ” دو سودوں میں ، ایک سودا سود ہے “ ۔
یہ روایت ” موقوف “ ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اسی طرح نقل کی ہے اور یہ بات زائد نقل کی ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اچھی طرح وضو کرنے کا حکم دیا ہے “ ۔ امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 6385
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَطْلُ الْغَنِيِّ ظُلْمٌ ، وَإِذَا أُحِلْتَ عَلَى مَلِيءٍ فَاتْبَعْهُ ، وَلَا بَيْعَتَيْنِ فِي وَاحِدَةٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَلَفْظُهُ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى عَنْ بَيْعَتَيْنِ فِي بَيْعَةٍ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” خوشحال شخص کا ( ادائیگی میں ) ٹال مٹول کرنا ظلم ہے اور جب کسی شخص کو وصولی کے لئے کسی دوسرے کے سپرد کیا جائے تو اسے دوسرے شخص کے پیچھے جانا چاہیے اور ایک سودے میں دو سودے جائز نہیں ہیں“ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، ان کے الفاظ یہ ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دو سودے میں دو سودے کرنے سے منع کیا ہے “ ۔ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، ان کے الفاظ یہ ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دو سودے میں دو سودے کرنے سے منع کیا ہے “ ۔ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 6386
وَعَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ : قَدِمْتُ مَكَّةَ ، فَوَجَدْتُ فِيهَا أَبَا حَنِيفَةَ ، وَابْنَ أَبِي لَيْلَى ، وَابْنَ شُبْرُمَةَ ، فَسَأَلْتُ أَبَا حَنِيفَةَ قُلْتُ : مَا تَقُولُ فِي رَجُلٍ بَاعَ بَيْعًا ، وَشَرَطَ شَرْطًا ؟ قَالَ : الْبَيْعُ بَاطِلٌ ، وَالشَّرْطُ بَاطِلٌ . ¤ ثُمَّ أَتَيْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى فَسَأَلْتُهُ ؟ فَقَالَ : الْبَيْعُ جَائِزٌ ، وَالشَّرْطُ بَاطِلٌ . ¤ ثُمَّ أَتَيْتُ ابْنَ شُبْرُمَةَ فَسَأَلْتُهُ ؟ فَقَالَ : الْبَيْعُ جَائِزٌ ، وَالشَّرْطُ جَائِزٌ . ¤ فَقُلْتُ : يَا سُبْحَانَ اللَّهِ ! ثَلَاثَةٌ مِنْ فُقَهَاءِ الْعِرَاقِ اخْتَلَفُوا عَلَيَّ فِي مَسْأَلَةٍ وَاحِدَةٍ ، فَأَتَيْتُ أَبَا حَنِيفَةَ ، فَأَخْبَرْتُهُ ، فَقَالَ : لَا أَدْرِي مَا قَالَا ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى عَنْ بَيْعٍ ، وَشَرْطٍ ، الْبَيْعُ بَاطِلٌ ، وَالشَّرْطُ بَاطِلٌ . ¤ ثُمَّ أَتَيْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى ، فَأَخْبَرْتُهُ ، فَقَالَ : لَا أَدْرِي مَا قَالَا ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ أَشْتَرِيَ بَرِيرَةً فَأَعْتِقَهَا ؛ الْبَيْعُ جَائِزٌ ، وَالشَّرْطُ بَاطِلٌ . ¤ ثُمَّ أَتَيْتُ ابْنَ شُبْرُمَةَ ، فَأَخْبَرْتُهُ ، فَقَالَ : لَا أَدْرِي مَا قَالَا ، حَدَّثَنِي مِسْعَرُ بْنُ كِدَامٍ ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَاقَةً وَشَرَطَ حَمْلَنَا إِلَى الْمَدِينَةِ ؛ الْبَيْعُ جَائِزٌ وَالشَّرْطُ جَائِزٌ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِي طَرِيقِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو مَقَالٌ . ¤
محمد محی الدین
عبدالوارث بن سعد بیان کرتے ہیں : میں مکہ آیا وہاں میں نے امام ابوحنیفہ امام ابن ابولیلیٰ اور امام ابن شبرمہ کو پایا میں نے امام ابوحنیفہ سے سوال کیا میں نے کہا: ایسے شخص کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں جو کوئی چیز فروخت کرتا ہے اور پھر کوئی شرط عائد کر دیتا ہے ۔ انہوں نے فرمایا : سودا باطل ہو گا اور شرط بھی باطل ہو گی ، پھر میں ابن ابولیلیٰ کے پاس آیا میں نے ان سے یہی سوال کیا ، تو انہوں نے فرمایا : سودا جائز ہو گا اور شرط باطل ہو گی پھر میں ابن شبرمہ کے پاس آیا میں نے ان سے یہ سوال کیا ، تو انہوں نے فرمایا : سودا بھی جائز ہو گا اور شرط بھی جائز ہو گی ۔ میں نے کہا: سبحان اللہ ! کیا بات ہے ؟ عراق کے تین فقہاء ایک ہی مسئلے کے بارے میں میرے سامنے مختلف آراء پیش کر رہے ہیں میں امام ابوحنیفہ کے پاس آیا میں نے انہیں اس بارے میں بتایا تو انہوں نے فرمایا : مجھے نہیں معلوم ان دونوں نے کس بنیاد پر یہ فتوی دیا ہے ؟ عمرو بن شعیب نے اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کے حوالے سے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سودا کرنے میں شرط رکھنے سے منع کیا ہے ، تو سودا بھی باطل ہو گا اور شرط بھی باطل ہو گی ۔ عبدالوارث کہتے ہیں : پھر میں ابن ابولیلیٰ کے پاس آیا اور انہیں یہ بات بتائی تو انہوں نے بتایا کہ مجھے نہیں معلوم کہ ان دونوں نے کس بنیاد پر یہ فتوی دیا ہے ؟ ہشام بن عروہ نے اپنے والد کے حوالے سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے یہ حدیث مجھے بیان کی ہے ۔ وہ فرماتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ حکم دیا تھا کہ میں بریرہ کو خرید کر اسے آزاد کر دوں ( این ابولیلی نے کہا: ) تو یہ سودا جائز ہے اور شرط باطل ہے ۔ عبدالوارث کہتے ہیں : میں ابن شبرمہ کے پاس آیا اور انہیں اس بارے میں بتایا تو انہوں نے فرمایا : مجھے نہیں معلوم کہ ان دونوں نے کس بنیاد پر یہ فتویٰ دیا ہے ؟ مسعر بن کدام نے محارب بن دثار کے حوالے سے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کیا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اونٹنی بھیجی ( یا فروخت کی ) تو یہ شرط عائد کی کہ مدینہ منورہ تک اس پر سواری کی جائے گی ( این شبرمہ نے کہا: ) تو یہاں سودا بھی جائز ہے اور شرط بھی جائز ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے منقول روایت کی سند میں کلام پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے منقول روایت کی سند میں کلام پایا جاتا ہے ۔
حدیث نمبر: 6387
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِعَتَّابِ بْنِ أَسِيدٍ : " إِنِّي قَدْ بَعَثْتُكَ عَلَى أَهْلِ اللَّهِ - أَهْلِ مَكَّةَ - فَانْهَهُمْ عَنْ بَيْعِ مَا لَمْ يُقْبَضْ ، وَعَنْ رِبْحِ مَا لَمْ يَضْمَنُوا ، وَعَنْ شَرْطَيْنِ فِي شَرْطٍ ، وَعَنْ بَيْعٍ وَقَرْضٍ ، وَعَنْ بَيْعٍ وَسَلَفٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ الْأَيْلِيُّ ؛ قَالَ الذَّهَبِيُّ : رَوَى عَنْهُ يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ مَنَاكِيرَ . قُلْتُ : وَلَمْ أَجِدْ لِغَيْرِ الذَّهَبِيِّ فِيهِ كَلَامًا . وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ سے فرمایا : میں تمہیں اللہ والے لوگوں ( یعنی اہل مکہ ) کی طرف بھیجنے لگا ہوں تم انہیں ایسا سودا کرنے سے منع کر دینا جو قبضے میں نہ لیا گیا ہو اور اس چیز کے منافع سے منع کر دینا جس کے ضمان کے وہ پابند نہ ہوں اور ایک شرط میں دو شرطیں عائد کرنے سے اور بیع اور قرض سے اور بیع اور سلف سے منع کر دینا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن صالح ایلی ہے امام ذہبی کہتے ہیں : یحیی بن بکیر نے اس کے حوالے سے منکر روایات نقل کی ہیں ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : میں یہ کہتا ہوں : ذہبی کے علاوہ میں نے کسی اور کو اس کے بارے میں کلام کرتے ہوئے نہیں پایا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن صالح ایلی ہے امام ذہبی کہتے ہیں : یحیی بن بکیر نے اس کے حوالے سے منکر روایات نقل کی ہیں ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : میں یہ کہتا ہوں : ذہبی کے علاوہ میں نے کسی اور کو اس کے بارے میں کلام کرتے ہوئے نہیں پایا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 6388
وَعَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ قَالَ : نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ أَرْبَعِ خِصَالٍ فِي الْبَيْعِ : عَنْ سَلَفٍ ، وَبَيْعٍ ، وَشَرْطَيْنِ فِي بَيْعٍ ، وَبَيْعِ مَا لَيْسَ عِنْدِي ، وَرِبْحِ مَا لَمْ يُضْمَنْ . ¤ قُلْتُ : رَوَى النَّسَائِيُّ بَعْضَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الْعَلَاءُ بْنُ خَالِدٍ الْوَاسِطِيُّ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَضَعَّفَهُ مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سودے میں چار چیزوں سے منع کیا ہے سلف اور بیع ، ایک سودے میں دو شرطیں ، ایسی چیز فروخت کرنا جو میرے پاس نہ ہو اور ایسا منافع جس کے ضمان کی پابندی نہ ہو “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام نسائی رحمہ اللہ نے اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی علاء بن خالد واسطی ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور موسیٰ بن اسماعیل نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی علاء بن خالد واسطی ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور موسیٰ بن اسماعیل نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حدیث نمبر: 6389
وَعَنْ عَتَّابِ بْنِ أَسِيدٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لَهُ حِينَ أَمَّرَهُ مَكَّةَ : " هَلْ أَنْتَ مُبَلِّغٌ عَنِّي قَوْمَكَ مَا آمُرُكَ بِهِ ؟ قُلْ لَهُمْ : لَا يَجْمَعْ أَحَدُكُمْ بَيْعًا وَسَلَفًا ، وَلَا يَبِعْ أَحَدُكُمْ بَيْعَ غَرَرٍ ، وَلَا يَبِعْ أَحَدٌ مَا لَيْسَ عِنْدَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ الرَّبَذِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اہل مکہ کا امیر مقرر کیا ، تو ان سے فرمایا کیا میں تمہیں جس بات کی ہدایت کروں گا تم میری طرف سے اپنی قوم کو اس کی تبلیغ کر دو گے ؟ تم ان سے یہ کہنا کہ تم میں سے کوئی ایک شخص بیع اور سلف کو جمع نہ کرے اور تم میں سے کوئی ایک شخص دھوکے کا سودا نہ کرے اور تم میں سے کوئی ایک شخص کوئی ایسی چیز فروخت نہ کرے جو اس کے پاس نہ ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ربذی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ربذی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 6390
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ صَوْمَيْنِ ، وَعَنْ صَلَاتَيْنِ ، وَعَنْ لِبَاسَيْنِ ، وَعَنْ مَطْعَمَيْنِ ، وَعَنْ نِكَاحَيْنِ ، وَعَنْ بَيْعَتَيْنِ . فَأَمَّا الصَّوْمَانُ : فَيَوْمُ الْفِطْرِ وَيَوْمُ الْأَضْحَى . وَأَمَّا الصَّلَاتَانِ : فَصَلَاةٌ بَعْدَ الْغَدَاةِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ ، وَصَلَاةٌ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ . وَأَمَّا اللِّبَاسَانِ : فَأَنْ يَحْتَبِيَ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ ، وَلَا يَكُونُ بَيْنَ عَوْرَتِهِ وَبَيْنَ السَّمَاءِ شَيْءٌ فَتُدْعَى تِلْكَ السَّمَّاءُ . وَأَمَّا الْمَطْعَمَانِ : فَأَنْ يَأْكُلَ بِشِمَالِهِ وَيَمِينُهُ صَحِيحَةٌ ، وَيَأْكُلَ مُتَّكِئًا . وَأَمَّا الْبَيْعَانِ : فَيَقُولُ الرَّجُلُ : تَبِيعُ لِي ، وَأَبِيعُ لَكَ . وَأَمَّا النِّكَاحَانِ : فَنِكَاحُ الْبَغِيِّ وَنِكَاحٌ عَلَى الْخَالَةِ وَالْعَمَّةِ . ¤ قُلْتُ : عَزَاهُ فِي الْأَطْرَافِ إِلَى النَّسَائِيِّ ، وَلَمْ أَرَهُ فِي الصُّغْرَى . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دو قسم کے روزوں ، دو قسم کی نمازوں دو قسم کے لباس دو قسم کے کھانوں دو قسم کے نکاح اور دو قسم کے سودوں سے منع کیا ہے جہاں تک دو روزوں کا تعلق ہے ، تو وہ عیدالفطر اور عیدالاضحی کے دن ( کا روزہ ) ہے جہاں تک دو نمازوں کا تعلق ہے ، تو صبح کی نماز کے بعد سورج نکلنے تک ادا کی جانے والی نماز ہے اور عصر کی نماز کے بعد سورج کے غروب ہونے تک والی نماز ہے جہاں تک دو لباسوں کا تعلق ہے ، تو ایک صورت یہ ہے کہ آدمی نے ایک کپڑے کو احتباء کے طور پر لپیٹا ہوا ہو اور اس کی شرمگاہ اور آسمان کے درمیان کوئی کپڑا نہ ہو اور جہاں تک دو قسم کے کھانوں کا تعلق ہے ، تو یہ ہے کہ آدمی بائیں ہاتھ سے کھائے جبکہ اس کا دایاں ہاتھ ٹھیک ہو اور یہ کہ آدمی ٹیک لگا کر کھائے جہاں تک دو قسم کے سودوں کا تعلق ہے ، تو ایک صورت یہ ہے کہ آدمی یہ کہے کہ تم مجھے یہ چیز فروخت کر دو اور میں تمہیں فروخت کر دوں گا جہاں تک دو قسم کے نکاح کا تعلق ہے ، تو فاحشہ عورت سے نکاح کرنا اور خالہ یا پھوپھی پر نکاح کرنا ( یعنی بیوی کی بھانجی یا بھتیجی کے ساتھ نکاح کرنا ) ۔ ( علا ہیثمی فرماتے ہیں : ) ” اطراف “ کے مصنف نے اس کی نسبت امام نسائی رحمہ اللہ کی طرف کی ہے میں نے سنن نسائی میں یہ روایت نہیں دیکھی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔