مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّفْقَتَيْنِ فِي صَفْقَةٍ أَوِ الشَّرْطِ فِي الْبَيْعِ . باب: ایک ہی سودے میں دو سودے کرنے یا سودے میں کوئی شرط عائد کرنے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 6388
وَعَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ قَالَ : نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ أَرْبَعِ خِصَالٍ فِي الْبَيْعِ : عَنْ سَلَفٍ ، وَبَيْعٍ ، وَشَرْطَيْنِ فِي بَيْعٍ ، وَبَيْعِ مَا لَيْسَ عِنْدِي ، وَرِبْحِ مَا لَمْ يُضْمَنْ . ¤ قُلْتُ : رَوَى النَّسَائِيُّ بَعْضَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الْعَلَاءُ بْنُ خَالِدٍ الْوَاسِطِيُّ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَضَعَّفَهُ مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ . ¤محمد محی الدین
سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سودے میں چار چیزوں سے منع کیا ہے سلف اور بیع ، ایک سودے میں دو شرطیں ، ایسی چیز فروخت کرنا جو میرے پاس نہ ہو اور ایسا منافع جس کے ضمان کی پابندی نہ ہو “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام نسائی رحمہ اللہ نے اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی علاء بن خالد واسطی ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور موسیٰ بن اسماعیل نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔