حدیث نمبر: 6390
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ صَوْمَيْنِ ، وَعَنْ صَلَاتَيْنِ ، وَعَنْ لِبَاسَيْنِ ، وَعَنْ مَطْعَمَيْنِ ، وَعَنْ نِكَاحَيْنِ ، وَعَنْ بَيْعَتَيْنِ . فَأَمَّا الصَّوْمَانُ : فَيَوْمُ الْفِطْرِ وَيَوْمُ الْأَضْحَى . وَأَمَّا الصَّلَاتَانِ : فَصَلَاةٌ بَعْدَ الْغَدَاةِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ ، وَصَلَاةٌ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ . وَأَمَّا اللِّبَاسَانِ : فَأَنْ يَحْتَبِيَ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ ، وَلَا يَكُونُ بَيْنَ عَوْرَتِهِ وَبَيْنَ السَّمَاءِ شَيْءٌ فَتُدْعَى تِلْكَ السَّمَّاءُ . وَأَمَّا الْمَطْعَمَانِ : فَأَنْ يَأْكُلَ بِشِمَالِهِ وَيَمِينُهُ صَحِيحَةٌ ، وَيَأْكُلَ مُتَّكِئًا . وَأَمَّا الْبَيْعَانِ : فَيَقُولُ الرَّجُلُ : تَبِيعُ لِي ، وَأَبِيعُ لَكَ . وَأَمَّا النِّكَاحَانِ : فَنِكَاحُ الْبَغِيِّ وَنِكَاحٌ عَلَى الْخَالَةِ وَالْعَمَّةِ . ¤ قُلْتُ : عَزَاهُ فِي الْأَطْرَافِ إِلَى النَّسَائِيِّ ، وَلَمْ أَرَهُ فِي الصُّغْرَى . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دو قسم کے روزوں ، دو قسم کی نمازوں دو قسم کے لباس دو قسم کے کھانوں دو قسم کے نکاح اور دو قسم کے سودوں سے منع کیا ہے جہاں تک دو روزوں کا تعلق ہے ، تو وہ عیدالفطر اور عیدالاضحی کے دن ( کا روزہ ) ہے جہاں تک دو نمازوں کا تعلق ہے ، تو صبح کی نماز کے بعد سورج نکلنے تک ادا کی جانے والی نماز ہے اور عصر کی نماز کے بعد سورج کے غروب ہونے تک والی نماز ہے جہاں تک دو لباسوں کا تعلق ہے ، تو ایک صورت یہ ہے کہ آدمی نے ایک کپڑے کو احتباء کے طور پر لپیٹا ہوا ہو اور اس کی شرمگاہ اور آسمان کے درمیان کوئی کپڑا نہ ہو اور جہاں تک دو قسم کے کھانوں کا تعلق ہے ، تو یہ ہے کہ آدمی بائیں ہاتھ سے کھائے جبکہ اس کا دایاں ہاتھ ٹھیک ہو اور یہ کہ آدمی ٹیک لگا کر کھائے جہاں تک دو قسم کے سودوں کا تعلق ہے ، تو ایک صورت یہ ہے کہ آدمی یہ کہے کہ تم مجھے یہ چیز فروخت کر دو اور میں تمہیں فروخت کر دوں گا جہاں تک دو قسم کے نکاح کا تعلق ہے ، تو فاحشہ عورت سے نکاح کرنا اور خالہ یا پھوپھی پر نکاح کرنا ( یعنی بیوی کی بھانجی یا بھتیجی کے ساتھ نکاح کرنا ) ۔ ( علا ہیثمی فرماتے ہیں : ) ” اطراف “ کے مصنف نے اس کی نسبت امام نسائی رحمہ اللہ کی طرف کی ہے میں نے سنن نسائی میں یہ روایت نہیں دیکھی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6390
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10087)»