مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّفْقَتَيْنِ فِي صَفْقَةٍ أَوِ الشَّرْطِ فِي الْبَيْعِ . باب: ایک ہی سودے میں دو سودے کرنے یا سودے میں کوئی شرط عائد کرنے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِعَتَّابِ بْنِ أَسِيدٍ : " إِنِّي قَدْ بَعَثْتُكَ عَلَى أَهْلِ اللَّهِ - أَهْلِ مَكَّةَ - فَانْهَهُمْ عَنْ بَيْعِ مَا لَمْ يُقْبَضْ ، وَعَنْ رِبْحِ مَا لَمْ يَضْمَنُوا ، وَعَنْ شَرْطَيْنِ فِي شَرْطٍ ، وَعَنْ بَيْعٍ وَقَرْضٍ ، وَعَنْ بَيْعٍ وَسَلَفٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ الْأَيْلِيُّ ؛ قَالَ الذَّهَبِيُّ : رَوَى عَنْهُ يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ مَنَاكِيرَ . قُلْتُ : وَلَمْ أَجِدْ لِغَيْرِ الذَّهَبِيِّ فِيهِ كَلَامًا . وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ سے فرمایا : میں تمہیں اللہ والے لوگوں ( یعنی اہل مکہ ) کی طرف بھیجنے لگا ہوں تم انہیں ایسا سودا کرنے سے منع کر دینا جو قبضے میں نہ لیا گیا ہو اور اس چیز کے منافع سے منع کر دینا جس کے ضمان کے وہ پابند نہ ہوں اور ایک شرط میں دو شرطیں عائد کرنے سے اور بیع اور قرض سے اور بیع اور سلف سے منع کر دینا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن صالح ایلی ہے امام ذہبی کہتے ہیں : یحیی بن بکیر نے اس کے حوالے سے منکر روایات نقل کی ہیں ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : میں یہ کہتا ہوں : ذہبی کے علاوہ میں نے کسی اور کو اس کے بارے میں کلام کرتے ہوئے نہیں پایا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔