مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّفْقَتَيْنِ فِي صَفْقَةٍ أَوِ الشَّرْطِ فِي الْبَيْعِ . باب: ایک ہی سودے میں دو سودے کرنے یا سودے میں کوئی شرط عائد کرنے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ : قَدِمْتُ مَكَّةَ ، فَوَجَدْتُ فِيهَا أَبَا حَنِيفَةَ ، وَابْنَ أَبِي لَيْلَى ، وَابْنَ شُبْرُمَةَ ، فَسَأَلْتُ أَبَا حَنِيفَةَ قُلْتُ : مَا تَقُولُ فِي رَجُلٍ بَاعَ بَيْعًا ، وَشَرَطَ شَرْطًا ؟ قَالَ : الْبَيْعُ بَاطِلٌ ، وَالشَّرْطُ بَاطِلٌ . ¤ ثُمَّ أَتَيْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى فَسَأَلْتُهُ ؟ فَقَالَ : الْبَيْعُ جَائِزٌ ، وَالشَّرْطُ بَاطِلٌ . ¤ ثُمَّ أَتَيْتُ ابْنَ شُبْرُمَةَ فَسَأَلْتُهُ ؟ فَقَالَ : الْبَيْعُ جَائِزٌ ، وَالشَّرْطُ جَائِزٌ . ¤ فَقُلْتُ : يَا سُبْحَانَ اللَّهِ ! ثَلَاثَةٌ مِنْ فُقَهَاءِ الْعِرَاقِ اخْتَلَفُوا عَلَيَّ فِي مَسْأَلَةٍ وَاحِدَةٍ ، فَأَتَيْتُ أَبَا حَنِيفَةَ ، فَأَخْبَرْتُهُ ، فَقَالَ : لَا أَدْرِي مَا قَالَا ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى عَنْ بَيْعٍ ، وَشَرْطٍ ، الْبَيْعُ بَاطِلٌ ، وَالشَّرْطُ بَاطِلٌ . ¤ ثُمَّ أَتَيْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى ، فَأَخْبَرْتُهُ ، فَقَالَ : لَا أَدْرِي مَا قَالَا ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ أَشْتَرِيَ بَرِيرَةً فَأَعْتِقَهَا ؛ الْبَيْعُ جَائِزٌ ، وَالشَّرْطُ بَاطِلٌ . ¤ ثُمَّ أَتَيْتُ ابْنَ شُبْرُمَةَ ، فَأَخْبَرْتُهُ ، فَقَالَ : لَا أَدْرِي مَا قَالَا ، حَدَّثَنِي مِسْعَرُ بْنُ كِدَامٍ ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَاقَةً وَشَرَطَ حَمْلَنَا إِلَى الْمَدِينَةِ ؛ الْبَيْعُ جَائِزٌ وَالشَّرْطُ جَائِزٌ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِي طَرِيقِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو مَقَالٌ . ¤عبدالوارث بن سعد بیان کرتے ہیں : میں مکہ آیا وہاں میں نے امام ابوحنیفہ امام ابن ابولیلیٰ اور امام ابن شبرمہ کو پایا میں نے امام ابوحنیفہ سے سوال کیا میں نے کہا: ایسے شخص کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں جو کوئی چیز فروخت کرتا ہے اور پھر کوئی شرط عائد کر دیتا ہے ۔ انہوں نے فرمایا : سودا باطل ہو گا اور شرط بھی باطل ہو گی ، پھر میں ابن ابولیلیٰ کے پاس آیا میں نے ان سے یہی سوال کیا ، تو انہوں نے فرمایا : سودا جائز ہو گا اور شرط باطل ہو گی پھر میں ابن شبرمہ کے پاس آیا میں نے ان سے یہ سوال کیا ، تو انہوں نے فرمایا : سودا بھی جائز ہو گا اور شرط بھی جائز ہو گی ۔ میں نے کہا: سبحان اللہ ! کیا بات ہے ؟ عراق کے تین فقہاء ایک ہی مسئلے کے بارے میں میرے سامنے مختلف آراء پیش کر رہے ہیں میں امام ابوحنیفہ کے پاس آیا میں نے انہیں اس بارے میں بتایا تو انہوں نے فرمایا : مجھے نہیں معلوم ان دونوں نے کس بنیاد پر یہ فتوی دیا ہے ؟ عمرو بن شعیب نے اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کے حوالے سے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سودا کرنے میں شرط رکھنے سے منع کیا ہے ، تو سودا بھی باطل ہو گا اور شرط بھی باطل ہو گی ۔ عبدالوارث کہتے ہیں : پھر میں ابن ابولیلیٰ کے پاس آیا اور انہیں یہ بات بتائی تو انہوں نے بتایا کہ مجھے نہیں معلوم کہ ان دونوں نے کس بنیاد پر یہ فتوی دیا ہے ؟ ہشام بن عروہ نے اپنے والد کے حوالے سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے یہ حدیث مجھے بیان کی ہے ۔ وہ فرماتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ حکم دیا تھا کہ میں بریرہ کو خرید کر اسے آزاد کر دوں ( این ابولیلی نے کہا: ) تو یہ سودا جائز ہے اور شرط باطل ہے ۔ عبدالوارث کہتے ہیں : میں ابن شبرمہ کے پاس آیا اور انہیں اس بارے میں بتایا تو انہوں نے فرمایا : مجھے نہیں معلوم کہ ان دونوں نے کس بنیاد پر یہ فتویٰ دیا ہے ؟ مسعر بن کدام نے محارب بن دثار کے حوالے سے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کیا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اونٹنی بھیجی ( یا فروخت کی ) تو یہ شرط عائد کی کہ مدینہ منورہ تک اس پر سواری کی جائے گی ( این شبرمہ نے کہا: ) تو یہاں سودا بھی جائز ہے اور شرط بھی جائز ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے منقول روایت کی سند میں کلام پایا جاتا ہے ۔