مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّفْقَتَيْنِ فِي صَفْقَةٍ أَوِ الشَّرْطِ فِي الْبَيْعِ . باب: ایک ہی سودے میں دو سودے کرنے یا سودے میں کوئی شرط عائد کرنے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 6385
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَطْلُ الْغَنِيِّ ظُلْمٌ ، وَإِذَا أُحِلْتَ عَلَى مَلِيءٍ فَاتْبَعْهُ ، وَلَا بَيْعَتَيْنِ فِي وَاحِدَةٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَلَفْظُهُ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى عَنْ بَيْعَتَيْنِ فِي بَيْعَةٍ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” خوشحال شخص کا ( ادائیگی میں ) ٹال مٹول کرنا ظلم ہے اور جب کسی شخص کو وصولی کے لئے کسی دوسرے کے سپرد کیا جائے تو اسے دوسرے شخص کے پیچھے جانا چاہیے اور ایک سودے میں دو سودے جائز نہیں ہیں“ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، ان کے الفاظ یہ ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دو سودے میں دو سودے کرنے سے منع کیا ہے “ ۔ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔