مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابُ مَا نُهِيَ عَنْهُ مِنَ الْبُيُوعِ . باب: کون سی قسم کے سودوں سے منع کیا گیا ہے
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ فِطْرٍ أَوْ أَضْحَى ، ثُمَّ أَدْبَرَ فَاتَّبَعَهُ أُبَيٌّ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، وَاتَّبَعْتُهُمْ حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى اللَّحَّامِينَ عِنْدَ دَارِ أَبِي كَثِيرٍ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَسْلَخُوا ذَبِيحَتَكُمْ حَتَّى تَمُوتَ ، وَلَا يَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ ، وَلَا تَنَاجَشُوا ، وَلَا تَلَقَّوُا السِّلَعَ ، وَلَا تَحْتَكِرُوا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ صَهْبَانَ أَيْضًا ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : عیدالفطر یا شاید عیدالاضحی کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کی پھر آپ واپس تشریف لائے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما آپ کے پیچھے تھے ان حضرات کے پیچھے میں بھی تھا یہاں تک کہ ہم دار ابوکثیر کے پاس گوشت فروخت کرنے والوں تک پہنچ گئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تم اپنے ذبیحہ کی کھال اس وقت تک نہ اتارو جب تک وہ مر نہیں جاتا اور کوئی شخص کسی دوسرے کے سودے پر سودا نہ کرے اور تم آپس میں مصنوعی بولی: نہ لگاؤ اور تم ( منڈی تک پہنچنے سے پہلے ) سامان سے نہ ملو اور تم ذخیرہ اندوزی نہ کرو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن صہبان ہے اور وہ متروک ہے ۔