مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابُ مَا نُهِيَ عَنْهُ مِنَ الْبُيُوعِ . باب: کون سی قسم کے سودوں سے منع کیا گیا ہے
وَعَنْ زَامِلِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَرَجَ يَوْمَ الْفِطْرِ إِلَى الْعِيدِ عَنْ يَمِينِهِ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ ، وَعَنْ يَسَارِهِ عُمَرُ - أَوْ قَالَ : ابْنُ عُمَرَ - فَلَمَّا فَرَغَ مَرَّ عَلَى بَابِ أَبِي كَثِيرٍ - أَوْ كَبِيرٍ - وَاللَّحَّامُونَ بِفِنَائِهَا وَالنَّاسُ حَدِيثُو عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ فَقَالَ : " كَيْفَ تَبِيعُونَ ؟ " . قَالُوا : كَذَا وَكَذَا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " بِيعُوا كَيْفَ شِئْتُمْ ، وَلَا تَخْلِطُوا مَيْتَةً بِمَذْبُوحَةٍ عَلَى النَّاسِ . أَيُّهَا النَّاسُ احْفَظُوا : لَا تَحْتَكِرُوا ، وَلَا تَنَاجَشُوا ، وَلَا تُلْقُوا السِّلَعَ ، وَلَا يَبِعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ ، وَلَا يَبِعِ الرَّجُلُ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ ، وَلَا يَخْطُبْ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ حَتَّى يَأْذَنَ لَهُ ، وَلَا تَسْأَلِ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ الْأُخْرَى لِتَكْتَفِئَ إِنَاءَهَا وَلِتُنْكَحَ ، فَإِنَّ رِزْقَهَا عَلَى اللَّهِ تَعَالَى " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ صَهْبَانَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤زامل بن عمرو نے اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے : عیدالفطر کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عید گاہ کی طرف تشریف لے گئے آپ کے دائیں طرف سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ تھے اور بائیں طرف سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تھے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما تھے جب آپ فارغ ہوئے تو آپ کا گزر باب ابوکثیر ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) باب ابوکبیر کے پاس سے ہوا جس کے باہر گوشت فروخت کرنے والے لوگ موجود تھے لوگ اس وقت زمانہ جاہلیت کے قریب تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم کیسے فروخت کر رہے ہو ؟ انہوں نے عرض کی : اتنے ، اتنے کے عوض میں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم جیسے چاہو ویسے فروخت کرو لیکن لوگوں کے لئے ذبح شدہ جانور کے ساتھ مردار کو نہ ملا دینا اے لوگو ! حفاظت کرو تم ذخیرہ اندوزی نہ کرو تم مصنوعی بولی: نہ لگاؤ تم ( منڈی سے باہر ) سامان ( کے قافلے ) سے نہ ملو ، شہری شخص دیہاتی کے لئے کوئی چیز فروخت نہ کرے کوئی شخص اپنے بھائی کے سودے پر سودا نہ کرے کوئی شخص اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر پیغام نہ بھیجے جب تک وہ بھائی اسے اجازت نہیں دے دیتا اور کوئی عورت دوسری عورت کی طلاق کا مطالبہ نہ کرے تاکہ اس کے حصے کے برتن کو خود حاصل کر لے اور اس کے ساتھ نکاح کر لیا جائے کیونکہ اس عورت کا رزق اللہ تعالیٰ کا ذمہ ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمر بن صہبان ہے اور وہ متروک ہے ۔