مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابُ مَا نُهِيَ عَنْهُ مِنَ الْبُيُوعِ . باب: کون سی قسم کے سودوں سے منع کیا گیا ہے
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَهْلُ الْمَدَايِنِ الْحُبَسَاءُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ رِدْءُ الْمُسْلِمِينَ وَثَغْرُهُمْ فَلَا تَغْلُوا عَلَيْهِمْ ، وَلَا تَحْتَكِرُوا ، وَلَا يَبِعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ ، وَلَا يَسِمِ الرَّجُلُ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ ، وَلَا يَخْطُبْ عَلَى خِطْبَتِهِ ، وَلَا تَكْتَفِئِ الْمَرْأَةُ إِنَاءَ أُخْتِهَا ، وَكُلٌّ رِزْقُهُ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ حَمَّادُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَهُوَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ مَجْهُولٌ . ¤سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” شہروں کے لوگ اللہ کی راہ میں پابند ہوتے ہیں ، تو تم ان کے خلاف چیزیں مہنگی نہ کرو ، اور تم ذخیرہ اندوزی نہ کرو اور شہری شخص دیہاتی کے لئے کوئی چیز فروخت نہ کرے اور کوئی شخص اپنے بھائی کی بولی: پر بولی: نہ لگائے اور اس کی شادی کے پیغام پر شادی کا پیغام نہ بھیجے اور کوئی عورت اپنی بہن کے برتن کو خود حاصل نہ کر لے ہر ایک کا رزق اللہ تعالی کے ذمہ ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حماد بن عبدالرحمن ہے اور وہ منکر الحدیث ہے اور مجہول ہے ۔